بےزباں قفس

اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر کا کاون دس سال سے اکیلا ہے

اللہ تعالی کی بنائی گئی ہرمخلوق فطری طور پر آزاد ہے۔ قید و بند کی پابند نہیں، ہمارے معاشرے میں یہ  احساس آگاہی واک میں تو ملتا ہے پر عمل میں نہیں لایا جاتا۔ ہم بحیثیت قوم  دوسرے ممالک میں انسانوں اور جانوروں  کی قید اور ظلم و زیادتی پر بین کرتے  نظر آتے ہیں پر اپنے ملک کے اندر چند بے زباں سنبھالے نہیں جا رہے۔ اسلام آباد میں ایک ایسا ہی قفس موجود ہے جو بے بسی کی تصویر بنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد کا ”مرغزار چڑیا گھر” کئی سال پہلے پر رونق سیر گاہ تھی۔ چھٹی کے روز بچے والدین کے ساتھ اپنے پسندیدہ جانور دیکھنے آتے،پنجروں کی جالی کے اندر سے اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں سے جانوروں کو دانہ ڈالتے۔ اسکول پکنک پر بھی بچوں کو چڑیا گھر کی سیر کروائی جاتی تا کہ سیر و تفریح کے ساتھ  بچوں کو جانوروں کے حوالے سے معلومات بھی دی جائیں۔ پر اب میں سوچتی ہوں کہ بچوں کو اگر جانوروں کے حوالے سے کوئی معلومات دینی ہو تو کیا بتایا جائے گا کہ ”بچو! دیکھو یہ سست کاون ہاتھی یہاں دس سال سے اکیلا ہے اور اس کا کوئی ساتھی نہیں۔ یہ اداس اور بیمار رہتا ہے۔ آو !بچو اگلے پنجرے میں بطخیں دیکھتے ہیں۔ یہ دو ہی رہ گئی ہیں ۔کچھ  سال پہلے اس پنجرے میں بہت سی بطخیں اور ان کے بچے ہوتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ سب ایک ایک کر کے مررہی ہیں۔ بچے جب ساتھ والے پنجرے پر نظر ڈالیں گے تو انہیں صرف باہر بورڈ پر نیل گائے لکھا ملے گا۔ ورنہ پنجرا تو  سال کے ابتدا میں ہی خالی ہو گیا تھا۔ 5 پیاری نیل گائیں اچانک ہی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ چڑیا گھر کے نام سے ایسا لگتا ہے جیسے وہاں چڑیاں طوطے یا دوسرے پرندے  ہوں گے لیکن پنجروں کو مایوسی سے تکتے بچوں کی نظر جب پرندوں کے پنجروں پر پڑے گی تو ان کو علم ہو گا کہ اب یہاں اڑان بھرنے والا کوئی باقی نہیں رہا۔ ہاں بچوں کی دلچسپی کیلئے ایک پنجرے میں بلی کی طرح دبکے شیر اور شیرنی ملیں گے۔ بچوں کو بتایا جائے گا کہ کچھ سال پہلے انتظامیہ کی غفلت سےیہ اپنے بچوں کو کھو بیٹھے۔ معلومات میں اضافہ کرتے ہوئےیہ بھی بتایا جائے گا کہ بچو اب یہاں چیتا،زرافہ اورمگرمچھ بھی موجودنہیں۔ پر یہاں  ٹوٹے پھوٹے فائبرگلاس سے بنے ڈائنوسارز کے مجسمے ضرور موجودہیں۔

دُنیا بھر کے چڑیا گھروں میں جانوروں کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ چڑیا گھروں میں جدت لائی جارہی ہے۔ بعض چڑیا گھروں کو سفاری پارک میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں جانوروں کو قدرتی ماحول دیا جاتا ہے اور وہ کھلی فضا میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہاں حکومت بدلی، موسم بدلا، ادارے کا کنٹرول بدلا، لیکن نہ بدلی تو دارالحکومت کے چڑیا گھر کی قسمت نہ بدلی۔ چڑیا گھر کی گیند کبھی میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے کورٹ میں جاتی تو کبھی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے۔ اس سب میں نقصان ہوا تو صرف جانوروں کا۔

اگست میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر مرغزار چڑیا گھر کا اختیار میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد سے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو مل تو گیا لیکن جانوروں کی حالت زار نہ بدل سکی۔  وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ایم سی آئی کی رسہ کشی سے جانور اذیت میں مبتلا رہے۔ اگست کے آخر اور ستمبر کے آغاز کے دوران ایک ہفتے میں پانچ سے سات قیمتی جانور مرگئے جن میں   نایاب چنکارہ، پرندے، بطخیں، طوطے وغیرہ شامل ہیں۔ اس موقع پر وزارت موسمیاتی تبدیلی کا کوئی بھی اہلکار یا افسر موقع پر موجود  نہ تھا۔ اور تو اور وزارت موسمیاتی تبدیلی نے اپنی نا اہلی کو چھپانے کیلئے تمام تر ذمہ داری ایم سی آئی پر ڈال دی۔ اس حوالے سے اسلام آباد کے ایک صحافی ولید چودھری  نے انکشاف کیا کہ عدالتی احکامات کی آڑ میں وزارت موسمیاتی تبدیلی نے گریڈ انیس کے ڈائریکٹر چڑیا گھر کے عہدے پر وائلد لائف بورڈ کا گریڈ سترہ کا افسر، جبکہ گریڈ 7 کا وائلڈ لائف گارڈ بھی چڑیا گھر میں تعینات کردیا گیا۔ ستمبر میں ہی وزارت موسمیاتی تبدیلی کی نگرانی میں  چار نایاب جانور مر گئے جن میں نایاب نسل کی دو مادہ اور ایک نر اُڑیال اور ایک نایاب کالی بطخ شامل تھیں۔ ان اموات کی بھی کوئی تحقیقات نہ کروائی گئی ۔اسی اثناء میں وزیر اعظم نے اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر کو ایم سی آئی سے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو منتقل کرنے کی منظوری دیدی۔ چند روز بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے دوبارہ مرغزار چڑیا گھر کو میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے حوالے کردیا۔ دو ماہ کے  دوران بار بارچڑیا گھر کی منتقلی کی وجہ سے چڑیا گھر مزید خراب ہو گیا۔

چڑیا گھر کی دوبارہ سپردگی ملتے ہی ایم سی آئی نے اپ گریڈیشن کا فیصلہ کیا جس میں جانوروں اور دیگر انتظامات کیلئے سی سی ٹی وی کیمرہ سسٹم لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پر جب بات جانوروں کی خوراک کی آئی تو ادارے کی جیب خالی نکلی۔ 18 اکتوبر کا دن مرغراز چڑیا گھر کے جانوروں کیلئے قحط کا دن تھا۔ ٹھیکیدار نے صاف صاف کہہ دیا کہ جانوروں کو اس وقت تک خوراک نہیں دی جائے گی جب تک فنڈز سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ یعنی بے حسی کی انتہا! نہ جانے ایسے ہی کتنے روز ان  بے زبانوں نے بغیر خوراک کے گزارے ہوں گے۔ قید وبند میں ان جانوروں نے کیا کیا صعوبتیں نہ جھیلیں۔ یہ حالات یونہی چلتے رہے۔ پانی سر سے جب گزر گیا تو ایف آئی اے اور سی ڈی اے کو ہوش آیا اور دونوں اداروں  نے چڑیا گھر انتظامیہ کے خلاف گھیرا تنگ کرلیا۔ ایف آئی اے کی طرف سے  نیل گائے کی ہلاکتوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تو سی ڈی اے نے بھی باقاعدہ چڑیا گھر کے نو افسران اور ملازمین کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ سی ڈی اے کی جانب سے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔ اب دیکھتے ہیں کہ تحقیقاتی فائل بھی باقی گرد آلود فائلوں کا حصہ بنے گی یا انسان جانوروں کو انصاف دلا سکیں گے۔

اگر ہم  مذہبی نکتہ نظر سے دیکھیں تو اسلام  ہمیں جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتا ہے۔ ان بے زبانوں کے ساتھ پیار اور شفقت کا درس ملتا ہے۔ تاریخ میں کئی واقعات ایسے نظر آتے ہیں کہ ایک جانور کی خوراک کا بندوبست کرنے سے ہی بڑے بڑے گناہ  گاروں کو بخشش کی نوید سنائی گئی۔ حقیقی ریاست مدینہ میں تو جانوروں کا بہت خیال رکھاجاتا تھا، لیکن جیسے پاکستان کی ریاست کو  کوئی فکر ہی نہیں  پڑتا۔ اشرف المخلوقات کا ثبوت دیتے ہوئےاس بات کا فیصلہ اب ہو جانا چاہئے کہ آیا مرغزار چڑیا گھر کو مکمل بند کردینا ہو گا یا  دوبارہ سے اس کی رونقیں بحال کرنی ہے۔ اداروں کو فیصلہ جلد لینا ہو گا۔

متعلقہ خبریں

One Thought to “بےزباں قفس”

  1. Ali

    ap ny bht achy tariky sy masly ki nishandi kr di hai Allah kry k hukumat k logo ko is halat e zaar ki behteri ka khayal aa jye!

Leave a Comment