پہلے ثابت کریں فردوس عاشق اعوان کے بیان سے توہین عدالت ہوئی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن میں معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین آمیز بیان کے معاملے پر کیس کی سماعت ہوئی۔ الیکشن کمیشن نے سردیوں کی چھٹیوں کے باعث کیس کی سماعت 9 جنوری تک ملتوی کردی۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) الطاف ابراہیم قریشی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار خالد محمود کی جانب سے ایڈووکیٹ شائستہ تبسم، جبکہ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی جانب سے ایڈووکیٹ سید محمد علی بخاری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ درخواستگزار کے وکیل کی جانب سے فردوس عاشق اعوان کی تقریر کے اخباری تراشے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے۔ وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا پیمرا کی جانب سے فردوس عاشق اعوام کی تقریر کی ویڈیو منگوائی جائے جس پر قائم مقام چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ ہم پیمرا سے کچھ نہیں منگوائیں گے۔ پہلے ثابت کریں کہ فردوس عاشق اعوان کے بیان سے توہین عدالت ہوئی۔ فردوس عاشق اعوان  کے وکیل نے بتایا کہ فروس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست اسلام اباد ہائی کورٹ میں بھی دائر کی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی ہے۔ بعد ازاں کیس کی مزید سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے باعث 9 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment