پاکستان ٹیسٹ جیت گیا

روزینہ علی 24 نیوز کی نمائندہ ہیں۔ 2015 سے پارلیمنٹ، سیاست، اور موسمیاتی تبدیلیوں اور سپورٹس جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ کھیلوں سے سکول کے دور سے لگاؤ ہے۔ خود بھی صحافت کے ساتھ ساتھ کئی کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔

دو چار دن کی بات نہیں ٹیسٹ کا یہ قصہ بڑا پرانا ہے۔ 15 سال بعد ٹیسٹ ہوا ور پھر ابھی دسمبر 2019 میں راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کی آمد کی خبر ہوئی تو ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ طویل عرصے بعد ایک بار پھر پاک سر زمین پر راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں غیر ملکی ٹیم کے ساتھ میچ ہونے جا رہا تھا۔ راولپنڈی کی فضاوَں میں الگ سا احساس تھا، الگ ہی خوشی تھی، کیونکہ یہاں ٹیسٹ میچز کے ساتھ پی ایس ایل، ون ڈے ہر طرح کے میچز شائقین کرکٹ سے کوسوں میل دور تھے۔ 19 جنوری 1992 کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کا افتتاح ہوا اور پھر پہلا ٹیسٹ میچ دسمبر 1993 میں پاکستان اور زمبابوے کے مابین کھیلا گیا۔ اس میچ میں گرین کیپس نے زمبابوے کو 57 رنز سے شکست دے کر عوام  کے سر فخر سے بلند کیے۔ پھر ٹیسٹ کرکٹ کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں نے بھی راولپنڈی کی سرزمین پر ٹیسٹ کے لیے قدم رکھا اور چلتے چلتے یہ سلسلہ آخری ٹیسٹ سیریز پر، جو اپریل 2004 میں ہوئی، رک گیا، جس میں انڈیا اور پاکستان کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوئیں۔

پاک بھارت ٹاکرا ہر ایک کا ہی پسندیدہ رہا ہے۔ یہ ٹیسٹ میچ بھی ایک تاریخ رقم کر گیا۔ لیکن اس آخری ٹیسٹ معرکے میں پاکستان کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت نے 600 رنز کی اننگ کھیلی جس میں راہول ڈریوڈ نے 270 کا سکور بنا کر پاکستان کے لیے مشکل کی دیوار کھڑی کی جسے پاکستان عبور نہ کر سکا اور ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ 2009 میں جب پاکستان ٹیسٹ کی تیاری کر چکا تھا، سری لنکن ٹیم پر دہشت گردی کے حملے نے پاکستان کو اس ٹیسٹ میں ایسا فیل کیا جسکے بعد پاکستان کو متعدد امتحانوں سے گزرنا پڑا۔ طویل جدوجہد ہوئی اور پھر 10 سال بعد پاکستان اور 15 سال بعد راولپنڈی میں ٹیسٹ کرکٹ کی رونقیں بالآخر واپس لوٹ آئیں۔ عوام کا طویل انتظار ختم ہوا تو موسم کی نٹ کھٹ ادائیں عوام اور ٹیسٹ میچ کے بیچ میں حائل ہو گئیں اور15000 افراد کی گنجائش کے اسٹیڈیم میں صرف چند افراد ہی نظر آئے۔ لیکن پاکستان نے ٹھان لیا تھا کہ دنیا کو دکھانا ہے کہ سیاحت ہو یا کھیل پاکستان محفوظ ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہونے والی دہشت گردی تو بس دشمنوں کی سازش تھی۔ کبھی دھوپ، کبھی بارش 11 دسمبر کو ٹیسٹ کے پہلے دن کے علاوہ باقی تین روز شائقین کو لمبے عرصے بعد بھی کرکٹ کے وہ مناظر دیکھنے کو نہ ملے۔ سب بارش رکنے کی دعائیں کرتے رہے۔ میڈیا باکس میں کئی صحافی بھی بارش رکنے کی دعائیں کرتے کہ یا اللہ کرم کر دے، کرکٹ چاہیئے بارش نہیں۔ سری لنکن صحافی بھی طویل عرصے بعد پاک سرزمین پر اچھا میچ دیکھنا چاہتے تھے۔ پہلے دن صرف 168 اوورز کھیلے گئے، جس میں سری لنکن ٹیم نے 202 رنز بنائے۔  چونکہ موسم ابر آلود تھا اس لیے کم روشنی کے باعث میچ ختم کرنا پڑا اور اگلے دن آسمان پر مستیاں کرتے بادل برس پڑے دوسرے دن بھی کچھ  خاص کھیل جم نہ سکا۔ 18 اوورز کے بعد ہی کھیل ختم ہوا۔  آسمان سے اتنا مینہ برسا کہ میچ ہونا نا ممکن ہوگیا۔ تیسرے دن 5 اوورز اور چوتھے دن بالکل میچ ہوا ہی نہیں اور بارش کے باعث میچ ڈرا کے قریب ہو گیا۔

یہاں ڈرا سے یاد آیا کہ اکتوبر 1994میں آسٹریلیا کے ساتھ بھی میچ ڈرا ہوگیا تھا۔ اسٹیڈیم اور پاکستان کے ٹیسٹ کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں 8 ٹیسٹ میچز میں پاکستان صرف 3 میں فتوحات حاصل کرسکا جبکہ 2 میچ ڈرا بھی ہوئے۔ اس تاریخی اسٹیڈیم میں زیادہ ترمہمان ٹیمیں سرخرو ہوئیں۔ اللہ اللہ کرتے پانچویں دن موسم صاف ہوا اور سورج سروں پر چمکنے لگا تو شائقین کرکٹ سے بھی گھروں میں نہ بیٹھا گیا۔ سب نکل آئے۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم چار روز شائقین کے نہ ہونے کے باعث کافی تنقید کی زد میں رہا۔ لیکن ٹیسٹ کے آخری دن شہریوں کا ہجوم نظر آیا۔ سب پاکستانی بلے بازوں کو کھیلتا دیکھنا چاہتے تھے۔ سری لنکا نے دھننجیا ڈی سلوا کی سنچری کے ساتھ ہی 308 رنز پر اننگز ڈکلیئر کرتے ہوئے باری پاکستان کو دی اور پھر کیا تھا اسٹیڈیم "پاکستان زندہ باد”، "شکریہ شکریہ سری لنکا شکریہ” کے نعروں سے گونجتا رہا۔ دن چڑھتا گیا، دھوپ شدت اختیار کرتی گئی، اسٹیڈیم بھرتا گیا اور پاکستانی بلے بازوں کا خون بھی جوش مارنے لگا۔ عابد علی نے سنچری مکمل کی اور طویل عرصے بعد پھر سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کو ریکارڈ کا تحفہ دے دیا۔ عابد علی ٹیسٹ اور ون ڈے ڈیبیو پر سنچری اسکور کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ۔ بابراعظم بھی خوب جم کر کھیلے اور سنچری اسکور کی۔

شاہینوں کے اس سے پہلے بھی اس سر زمین پر اور خاص طور پر اس اسٹیڈیم میں کئی ریکارڈ رہے ہیں۔ راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں ٹیسٹ میچز میں کئی پاکستانی کھلاڑیوں نے 100 سے زیادہ رنز بنائے ہیں، جن میں 1994 میں پاکستان کے سلیم ملک نے ڈبل سنچری کے ساتھ 237 رنز بنائے، 1996 میں پاکستان کے اعجاز احمد نے 125، 1996 میں پاکستان کے سعید انور نے راولپنڈی اسٹیڈیم ٹیسٹ میچ میں 149 رنز، 1997 میں پاکستان کے علی نقوی نے 115 رنز، 1997 میں پاکستان کے اظہر محمود نے 128 رنز، 1997 میں پاکستان کے عامر سہیل نے 160 رنز، 1997 میں پاکستان کے انضمام الحق نے 177 رنز، 1998 میں پاکستان کے سعید انور نے 145 رنز اور سال 2000 میں پاکستان کے یونس خان نے 107 رنز بنائے۔ اس تاریخ کو کیس فراموش کر دیا جائے؟ غیر ملکی کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کے مائیکل سلاٹر نے 1994 میں 110 رنز بنائے، 1998 میں آسٹریلیا کے مائیکل سلاٹر نے 108 رنز اور 1998 میں ہی آسٹریلیا کے سٹیو وا نے 157 رنز بنائے۔ سال 2000 میں سری لنکا کے ارویندا ڈی سلوا نے 112 رنز بنائے۔ ویسے ریکارڈ سے یہ بھی یاد آیا کہ راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں ٹیسٹ میچ سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا اعزاز بھی پاکستان کے پاس ہے۔ پاکستان کے محمد زاہد نے 1996 میں ایک میچ میں 11 وکٹیں لیں تھی اور اب راولپنڈی کے شائقین کرکٹ ایسے ہی لمحوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

بہت اچھا لگا جب ہر زبان پر یہ سننے کو ملا کہ تو کیا ہوا میچ ڈرا کی طرف بھی گیا۔ ہم تو کرکٹ کو، پاکستان کو سپورٹ کرنے آئے ہیں۔ ہم اپنے شاہینوں کو سپورٹ کرنے آئے ہیں، مہمانوں کو خوش آمدید کہنے آئے ہیں۔ تب بہت خوشی ہوئی کہ سب ایک ہیں اور ہونا بھی چاہئیے۔ دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لیے بھی یہی بہت ہے۔ بات کر رہی تھی میں زیادہ وکٹوں کی، تو پاکستان کے وسیم اکرم نے 1993 میں 65 رنز دے کر 5 وکٹیں بھی اسی اسٹیڈیم میں لیں تھیں، وقار یونس، ثقلین مشتاق، یہ اسٹیڈیم ایسے بڑے بڑے ناموں سے آباد رہا۔ اور اگر عوام کی شاہینوں کے ساتھ یہ سپورٹ رہی تو آئندہ بھی ایسے بڑے بڑے نام آئیں گے۔ خیر پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ راولپنڈی اسٹیڈیم کو عوام، شاہینوں اور سری لنکن ٹائیگرز سب نے رونق بخشی۔ میچ ڈرا ہوا۔ ٹیموں کو پوائنٹس دیئے گئے۔ لیکن ہر طرف خوشی تھی کہ پاکستان ٹیسٹ میں پاس ہو گیا۔ پاکستان جیت گیا اور دشمن ہار گیا۔ ٹیسٹ کی خوشی میں سری لنکن کھلاڑیوں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا اور سب سے جب ملاقات ہوئی تو سب بہت خوش تھے۔ ڈک ویلا نے کہا کہ انہیں بالکل محسوس نہیں ہو رہا کہ وہ گھر سے اپنے وطن سے دور ہیں۔ ماضی کے ایک برے سانحے کے بعد بھی وہ اس ملک کو اپنا سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں بے حد پیارملا خوب مہمان نوازی ہوئی۔ دھننجیا ڈی سلوا نے کہا کہ پاکستان کے لیے صرف ایک امیج بنایا گیا ہے جو غلط ہے۔ یہ ایک پر امن ملک ہے جہاں سب کو آنا چاہئیے۔ ٹیم کے کپتان کرونا رتنے بھی پاکستانی انتظامات پر خوش تھے۔ سب نے کہا کہ جو سوچتے ہیں پاکستان محفوظ ملک نہیں انہیں سوچ بدلنی ہوگی۔ سری لنکن ٹیم کے مہمان ٹیم کے تمام کھلاڑی بغیر ڈر اور خوف کے گھومتے رہے۔ شہریوں سے ملتے رہے اور سیفیاں بناتے رہے۔ عشائیے پر گرما گرم سوپ نوش فرماتے ہوئے کہتے رہے کہ خوشی ہے پاکستان ٹیسٹ میں پاس ہو گیا۔ اب امید ہے اور دعا ہے کہ پاکستان کراچی ٹیسٹ میں بھی پاس ہوگا وہاں بھی عوام کا یہی جذبہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں

One Thought to “پاکستان ٹیسٹ جیت گیا”

  1. Ambreen ali

    Rozina ali excellent report

Leave a Comment