چاہتا ہوں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے: خورشید شاہ

سکھر: پیپلزپارٹی کے رہنما خورشیدشاہ نے اثاثہ جات ریفرنس میں رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی ہو یا نیب تعاون کرتا رہوں گا۔ ملک میں انصاف ہوتا رہا تو ملک کو ترقی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 32 سالہ سیاسی زندگی متاثر ہوئی۔ اب چاہتا ہوں دودھ کادودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ سیاست دان اپنے حلقے میں ہو تو عوام کی خدمت کرسکتا ہے۔

دوسری جانب نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں خورشید شاہ کی رہائی کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب کی جانب سے موقف اختیارکیا گیا ہے کہ خورشیدشاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ خورشید شاہ کی رہائی سے متعلق احتساب عدالت سکھر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ مذکورہ عدالت نے نیب کا موقف سنے بغیر پیپلزپارٹی کے رہنما کو خلاف قانون رہا کیا۔

علاوہ ازیں عدالت نے ضمانت کے خلاف اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسے سکھر بینچ منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ نیب کی اس درخواست کو آج ہی سکھر سرکٹ بینچ منتقل کیا جائے۔اس سے قبل 17 دسمبر کو سکھر کی احتساب عدالت نے رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت منظور کرلی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment