خیبر پختونخواہ میں پولیو ٹیم پر حملہ، دو اہلکار شہید

ماضی میں بھی پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیمز پر حملے کیے جا چکے ہیں

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع لوئردیر میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر معمور اہلکاروں پر حملے میں دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔  دہشت گرد حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے  علاقے کو گھیرے میں لے لیا لیکن دہشت گرد حملے کے بعد بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ ابھی تک کسی نے بھی دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

 یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے جب اس سال ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے 2020 میں پاکستان کی پولیو سے بچنے والی ریاست کے طور پر پیش گوئی کی تھی۔ پچھلے ایک سال کے دوران مذہبی شدت پسندوں نے سوشل میڈیا پر پولیو کمپین کے کے خلاف پروپگینڈہ شروع کر رکھا ہے۔ ماضی میں بھی، عسکریت پسندوں نے قطرے پلانے والی ٹیموں کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا تھا اور  واضح کیا تھا کہ یہ مہمات مسلمانوں کو بانجھ کرنے کے لئے ایک مغربی چال ہیں۔

پاکستان کی حکومت نے عوامی آگاہی مہم کے ساتھ ان جھوٹی افواہوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے، اور عوام کو یہ یقین دلانے کے لئے مسلم مذہبی رہنماؤں کی رہنمائی بھی حاصل کی ہے کہ یہ ویکسین صرف ان کے بچوں کی حفاظت کرتی ہے۔

2012 سے اب تک ، پاکستان میں کم از کم 70 پولیو ورکرز کو شہید کیا گیا ہے ۔ ان حملوں میں سے کئی  حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment