ایکس-59: آواز کی رفتار سے تیز اڑنے والا طیارہ


امریکی خلائی ٹیکنالوجی کا ادارہ ناسا بہت جلد آواز کی رفتار سے بھی تیز پرواز کی صلاحیت کے میدان میں ایک بار پھر قدم رکھ رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ناسا کا زیر تکمیل طیارہ ایکس 59 بہت جلد سپرسانک فلائٹس کو حقیقت بنادے گا۔ ناسا کا تین دہائیوں کے بعد یہ پہلا سپر سانک طیارہ ہے جبکہ اس حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیز اڑنے کے باوجود بھی اس میں کوئی آواز نہیں ہوتی بلکہ اس کی پرواز تقریبا خاموش  ہوتی ہے۔

ناسا ذرائع کے مطابق ایکس 59 کو حتمی اسمبلی کے لیے کلیئر قرار دے دیا گیا ہے اور اب اس میں سسٹمز کی تنصیب ہوگی۔ یہ طیارہ خاموشی کی سپرسونک ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ یہ طیارہ امریکی طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے ڈیزائن کیا ہے۔ اس کی پہلی آزمائشی پرواز 2020 میں متوقع ہے، جبکہ کمرشل بنیادوں پر اس کی فلائٹ کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ  2021 تک اسے کمرشل بنیادوں پر فلائٹ کے لیے تیار کر لیا جائے گا۔

ناسا کے مطابق سپرسانک رفتار پر پرواز کے باوجود اس کی آواز ایک گاڑی کے دروازے کو بند کرنے سے زیادہ نہیں ہوتی اور یہ 55 ہزار فٹ کی بلندی پر 940 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکے گا۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.