حکومت کا جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا فیصلہ


اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خصوصی عدالت کے جج جسٹس وقار سیٹھ کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ جسٹس وقار سیٹھ کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہ اس فیصلے سے بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے معاونین خصوصی شہزاد اکبر اور فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے کا پیرا 66 بہت ہی اہم ہے، جس میں لکھا ہے کہ پرویز مشرف کی لاش کو تین روز تک لٹکایا جائے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی ججمنٹ دینے کا مطلب اور ضرورت کیا تھی؟ ایسی آبرزویشن دینے کا حق کسی جج کو نہیں۔ جسٹس وقار سیٹھ کو فوری طور پر کام سے روک دیا جائے۔ ایسے جج کو پاکستان کی سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا جج ہونے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جائے گا۔

معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے سے بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل فیصلہ دیتی ہے تو یہ فیصلہ بھی کالعدم ہو جائے گا۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اس اہم معاملے پر وفاقی حکومت کو شدید تحفظات ہیں۔ پیرا 66 پر دو ججوں نے اختلاف کیا۔ اگر دو ججوں نے اختلاف کیا تو پھر اتفاق رائے کدھر تھا؟ پیرا 66 میں قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے قانون، شرعی اور انٹرنیشنل لا کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہمارا سرشرم سے جھک گیا ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق جسٹس وقار احمد کیحلاف ریفرنس کی تیاری کی ذمہ داری شہزاد اکبر کو سونپ دی گئی ہے۔ شہزاد اکبر اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کی مشاورت سے ریفرنس تیار کریں گے۔ جبکہ ریفرنس 36 گھنٹوں میں صدر مملکت کو بھجوائے جانے کا امکان ہے۔ ریفرنس صدر مملکت کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق شہزاد اکبر نے ریفرنس کی تیاری پر ابتدائی کام شروع کردیا ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.