پرویزمشرف کےخلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری


اسلام آباد: پرویزمشرف کےخلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔ فیصلہ خصوصی عدالت کے سربراہ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس وقار احمد سیٹھ کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے۔ تفصیلی فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے دیا گیا ہے جس میں اکثریت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی ہے جبکہ جسٹس نذر اکبر نے سزائے موت کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہےکہ پرویزمشرف نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی لگائی اور سپریم کورٹ کے 15 ججوں کو برطرف کیا گیا۔ صوبائی ہائیکورٹس کے 56 ججز کو بھی برطرف کیا گیا۔ اس وقت کے چیف جسٹس کو گھر پر نظر بند کیا گیا۔ 26 جون 2013 کو اس وقت کے وزیراعظم نے ایف آئی اے کو سنگین غداری کی تحقیقات کی  ہدایت کی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالت نے 19 جون  2016  کو مشرف کو مفرور قرار دیا۔ پرویزمشرف کو دفاع کا پورا حق دیا گیا۔پرویز مشرف کی جانب سے جمع کرائے گئے دستاویزات سے واضح ہے کہ ملزم نے جرم کیا  اور ملزم پر تمام الزامات کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پھانسی سے قبل پرویز مشرف مر جائیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک پر لٹکایا جائے ۔ فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ  ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ پر سزائے موت دی جاتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کی پھانسی کی سزا پر ہر صورت عملدرآمد کروائیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو مفرور کرانے  میں ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ مفرور کرانیوالوں کے خلاف کریمنل اقدام کی تفتیش کی جائے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس کیس سے متعلق ریکارڈ رجسٹرار کی تحویل میں رکھا جائے۔

جسٹس نذر اکبر کا فیصلے سے اختلاف

جسٹس نذر اکبر نے اس فیصلے میں 44 صفحے کا اختلافی نوٹ تحریر کرتے ہوئے پرویز مشرف کو بری کر دیا۔ جسٹس نذر اکبر نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ دوسری جانب دو ججز جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے سزائے موت کا فیصلہ دیا۔

خصوصی عدالت کا مختصر فیصلہ جاری

17 دسمبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کےتحت سزائے موت سنائی تھی۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2:1 کی اکثریت سے سنایا تھا۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.