حالات پھر خراب ہو سکتے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف کی ہرزہ سرائی

اسلام آباد: بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ حالات کسی بھی وقت مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک پروگرام میں مزید کہا کہ بھارتی فوج کسی بھی جارحیت کا سامنا کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔

5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت دی جانے والی خصوصی حیثیت، یا محدود خودمختاری کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان  1947 سے ایک متنازعہ علاقہ ہے۔

14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ حملے کے بعد بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے علاقہ بالا کوٹ میں ناکام فضائی حملہ کیا تھا جس کے جواب میں پاکستانی فضائیہ نے 27 فروری کو بھارت کے 2 طیارے مار گرائے تھے اور ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا۔ پاکستانی فضائیہ کے مطابق اس حملے میں بھارت میں بارود کے بڑے ذخیرے کو تباہ کیا گیا تھا۔

 بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کو، جن کی مدت ملازمت 31 دسمبر کو اختتام پذیر ہے، ہندوستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کرنے کا امکان ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل منوج موکنڈ ناروانے ان کی جگہ نئے آرمی چیف ہوں گے۔

مزید پڑھیں: بھارتی فوج کے سربراہ کا بیان۔۔ پاک فوج کا کرارا جواب

17 دسمبروزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے اور شہریت ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے بھارت پر شدید تنقید کی تھی۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کے حالیہ اقدامات سے دونوں ممالک کے مابین جوہری تنازعہ پیدا ہوسکتا ہے۔

بھارتی فوج کے سربراہ کے اس شر انگیز بیان پر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کی جانب سے اشتعال انگیز بیان سامنے آیا ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا بیان اور لائن آف کنٹرول پر بھارت کی دراندازی کی تیاریاں سازش ہے۔ بھارت یہ سب کچھ متنازع شہریت بل کے خلاف مظاہروں سے توجہ ہٹانے کیلئے کررہا ہے۔  ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی کسی بھی مہم جوئی اور جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment