سفر کرتا پور راہداری کی جانب

عثمان خان


گزشتہ دنوں پارلیمنٹ ہاوس میں تھا کہ لاہور سے ایک صحافی دوست کی کال آئی۔ لاہور سے نوجوان صحافیوں کا ایک مطالعاتی دورہ کرتا پور راہداری کیلئے ترتیب دیا جارہا تھا۔ کال کا مقصد اس دورے کے لیے دعوت دینا تھا۔ مجھے بھی ایک عرصہ سے اس منصوبے کو دیکھنے کی خواہش تھی، سو میں نے حامی بھرتے ہوئے کہا کہ لازمی جائینگے اور لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔

مزے کی بات یہ تھی کہ یہ دورہ اتوار کو رکھا گیا تھا۔ پروگرام ینگ جرنلسٹ فورم اور لیڈنگ لیڈیز کے اشتراک سے ترتیب دیا گیا تھا۔ چنانچہ ہفتے کے روز دن کو میں لاہور کیلئے عازم سفر ہوا۔ لاہور میں ہر طرف دھند کا راج تھا، تاہم لاہور سے وابستگی کی وجہ سے ہماری دھند سے شناسائی بہت پہلے کی ہے۔ رات گھر پہنچا۔ تھکے وجود کیساتھ بستر پہ لیٹ گیا اور جب صبح دوست کی کال آئی تو جلدی سے اٹھ کر تیار ہوگیا۔ سوچئے چھٹی کا دن ہو، لاہور کا موسم ہو اور ہم سویرے اٹھ جائیں۔ دل تو بالکل نہیں کررہا تھا لیکن چونکہ سفر کرتا پور راہداری کا تھا، سو نیند کی قربانی کوئی بڑی قربانی محسوس نہ ہوئی۔ متعلقہ جگہ پر پہنچا تو کچھ احباب پہلے سے ہی پہنچ چکے تھےجبکہ کچھ کا انتظار کیا جارہا تھا۔ ٹھیک نو بجے ہم کرتار پور کی جانب سوئے عازم ہوئے۔ صبح گیارہ بجے ناروا ل سے ہوتے ہوئے ہم کرتا پور پہنچے۔ بے ہنگم رش اور چھٹی کی وجہ سے ٹریفک کی روانی معمول سے کافی زیادہ تھی۔ تاہم ہمارے آنے سے پہلے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر انتظامیہ کو دعوت دی گئی تھی، جسکی وجہ سے فائدہ یہ ہوا کہ ہم جلد ہی رجسٹریشن آفس پہنچے اور ضروری کاروائی کے بعد ہمارا دورہ شروع ہو گیا۔

کرتا پور راہداری بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک سرحدی راہداری ہے جو بھارتی سکھوں کو پاکستانی علاقے کرتا پور صاحب میں واقع گردوارہ صاحب، جو کہ سکھوں کی مقدس عبادت گاہ ہے، کی آسانی سے زیارت کرنے کے لیے حکومت پاکستان اور بھارت کے مابین ایک معاہدے کے بعد بنائی گئی ہے۔ سن 2000  میں پاکستان نے بھارتی سکھ زائرین کے لیے مقبرے کی زیارت کیلئے پاسپورٹ یا ویزہ کی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اگست 2018 میں پنجاب کے وزیر اور سابق ایم پی اے نوجوت سنگھ سدھو نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس راہداری کو کھول دینگے۔ 26 نومبر 2018 کو بھارتی نائب صدر وینکائیکا نائیڈو نے بھارتی پنجاب کے ضلع گورداسپور کے گاوں منن میں ڈیرہ بابانانک کرتا پور کی بنیاد رکھی۔ 28 نومبر 2018 کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی پنجاب کے ضلع ناروال کے قریب کرتا پور گاوں میں اس راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پہ دو بھارتی وزیر ہرسمرت کوربادل اور ہردیپ سنگھ پوری پاکستان میں موجود تھے۔ نوجوت سنگھ سدھو اور امرتسر سے ایم پی اے گرجیت سنگھ اوجلا بھی اس تقریب میں شامل تھے۔

اس راہداری کا مقصد ارضی فاصلوں کو مٹا کر ایک مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا تعلق اپنی مذہبی مرجع سے جوڑنا ہے لیکن اس سے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے فاصلوں کو بھی مٹ جانا چاہیے۔ یہ پاکستان کی طرف سے ایک بہتر قدم تھا جسے بھارت نے بادل نخواستہ تسلیم تو کر لیا مگر ریاستی سطح پہ بھارت اس وقت کشمکش کی صورت حال میں ہے۔ ریاستی سطح پر بھارت نے عملی کام کم اور زبانی جمع خرچ زیادہ کیا ہے۔ اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کی اس کاوش کو جہاں نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں سراہا گیا بلکہ سکھ کمیونٹی نے اپنے تمام تر دلی جذبات پاکستان کی جھولی میں ڈال دئیے ہیں۔

کرتارپور گردوارہ صاحب میں سکھ برادی کو تمام تر سہولیات کی فراہمی کے علاوہ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ پوری دنیا سے آنے والے سکھوں کو امیگریشن کی مشکلات سے نہ گزرنا پڑے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یہ دیواریں ختم ہوں، چاہے وہ بارڈر کے اس پار ہو یا اُس پار۔ بھارت کو اپنی انتہا پسند حکومت کو جواب دینا چائیے کہ محبتیں فاصلوں کو ختم کردیتی ہے۔

بہرحال یہ تو ایک نقطہ متفرقہ تھا۔ دورے کے بعد تمام احباب نے خوب سیر کی اور وہاں کا لنگر بھی کھایا۔  دورہ مکمل ہونے کے بعد رات گیارہ بجے لاہور کی طرف واپس ہوئے،  رات سیدھے آ کر بستر پر گر گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ چاہے انسان کتنا بھی تھکا ہو، جہاں کہیں کام کرتا ہو، اپنے گھر اور اپنے تکئیے پر وہ غنودگی والی نیند طاری ہوتی کہ دل کرتا ہے کہ بس بندہ آرام کرتا رہے۔ لیکن ہم ٹہرے قلم کے مزدور، پھر اسی تھکے ہارے وجود کیساتھ روزی روٹی کیلئے اسلام آباد پہنچے۔ اسلام آباد کی ایک خوبی ہے کہ یہاں موسم انگڑائیاں نہیں لیتا، ہمیشہ رومینٹک رہتا ہے، سو ایک رومینٹک شام یہاں ہماری منتظر تھی۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.