لاک ڈاون کا 137واں روز، کشمیر میں زبردست مظاہرے


اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر میں لوگوں نے بھارتی قبضے اور علاقے میں جاری لاک ڈاؤن کے خلاف نوہٹہ، سری نگر اور علاقے کے دیگر علاقوں میں زبردست مظاہرے کیے۔

سری نگر کے علاقے میں واقع تاریخی جامع مسجد کو 19 ہفتوں تک  بند رکھنے کے بعد  قابض حکام نے آج لوگوں کو مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی۔ تاہم جیسے ہی جمعہ کی اجتماعی نماز کا اختتام ہوا ، بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگوں نے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ اس کے علاوہ سوپور، پلوامہ، بانڈی پورہ  اور دیگر علاقوں میں بھی بھارت کے خلاف مظاہرے کی گئے۔ بھارتی پولیس اور فوجیوں نے مختلف مقامات پر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ واضح رہے کہ قابض حکام نے حریت رہنما چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو نظربند رکھا ہوا ہے اور انہیں جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ دینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

دریں اثنا آج ، 138 ویں روز بھی  فوجی لاک ڈاون جاری رہنے کی وجہ سے وادی کشمیر میں صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔ دفعہ 144 کے تحت پابندیاں عائد کرنے اور انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروسز معطل کرنے کی وجہ سے وادی کے باشندے بے حد تکلیف کا شکار ہیں۔

مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی کے خلاف متعدد نوجوانوں نے سری نگر میں پریس انکلیو میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس سہولت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہندوستانی حکومت ایسے اقدامات کرکے انہیں دیوار سے لگا رہی ہے۔

بھارتی پولیس نے جموں و کشمیر کے انڈین نیشنل کانگریس کے یوتھ صدر ، ادے چیب کو جموں شہر میں حالیہ مظاہروں کے دوران گرفتار کر لیا ہے جبکہ بھارت کے نیشنل اسٹوڈنٹس یونین سے وابستہ طلباء کے ایک گروپ نے بھارت کے مختلف حصوں میں طلباء پر پولیس مظالم کے خلاف جموں یونیورسٹی کے باہر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.