بچوں کے تحفظ کے لیے زینب الرٹ بل منظور

زینب انصاری کو 9 جنوری 2018 کو قتل کر دیا گیا تھا

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ بل منظورکر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی بلاول بھٹو زرداری کی عدم موجودگی میں شازیہ مری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے نئے رکن محسن داوڑ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کاروائی کا آغاز کیا گیا۔ کمیٹی کی رکن اور وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اراکین کو آگاہ کیا کہ حکومت آئندہ ہفتے بچوں سے زیادتی کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی مہم کا آغاز کرے گی۔ 

وفاق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کمیٹی کو مزید آگاہ کیا کہ وزیراعظم کے پورٹیل میں میرا بچہ نام کی نئی ایپلیکیشن ڈال متعارف کروائی جا رہی ہے۔ 

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ پر غور کے بعد بل میں ترامیم کی منظوری دے کر بل متفقہ طورپر منظور کر لیا۔ قائم مقام چیئرپرسن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ اب یہ بل منظوری کے لئے جائے گا، جس کے بعد اس پر عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ 9 جنوری 2018 کو پنجاب کے شہر قصور میں زینب نامی بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر بہیمانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ زنیب کے قتل کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا ایک نہ رُکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس کی وجہ سے حکومت کو میدان میں اُترنا پڑا۔ 23 جنوری کو اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے زینب کے والد کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں زینب کے قاتل کو ڈی این اے کی مدد سے شناخت کرنے کا اعلان کیا۔

قاتل کی شناخت عمران علی کے نام سے ظاہر کی گئی جو زینب کا پڑوسی تھا۔ 10 فروری کو پولیس کی جانب سے ملزم کے خلاف چالان پیش کیا گیا۔ عمران علی کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ اس پر 31 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا جبکہ اسے زینب کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

عمران علی نے اپنی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جو مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں صدرِ پاکستان کو رحم کی اپیل کی گئی۔ یہ اپیل بھی مسترد کر دی گئی۔ 12 اکتوبر کو ملزم کے لیے سزائے موت کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا اور 17 اکتوبر کو ملزم کو پھانسی دے دی گئی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment