امریکی حکومت 18 سال عوام سے جھوٹ بولتی رہی: امریکی جریدہ

US Army

امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے دو سال تک عرق ریزی سے کی گئی تحقیقات کے نتیجے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی طاقت کے مرکز وائٹ ہاوس میں امورِ خارجہ کی پالیسیز کے سینئر ذمہ داران، وفاقی حکومت اور وزارتِ دفاع کے اعلی عہدے داران کو اس بات کا کافی عرصہ قبل ہی پتہ چل چکا تھا کہ افغانستان میں امریکی دخل اندازی بُری طرح ناکامی سے دوچار ہو رہی ہے۔

آسٹریلوی جریدے دی کنورسیشن میں بین الاقوامی خدمات کے امریکی یونیورسٹی اسکول کے پروفیسر گورڈن ایڈمز کے لکھے گئے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کو طویل قانونی جنگ کے بعد عراق کی تعمیر نو کے خصوصی انسپکٹر جنرل کے انٹرویو کی دستاویزات حاصل ہوئیں جن میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ  ان عہدے داران اور ذمے داران نے 18 سال تک عوام کو یہ جھوٹی خوشخبری سنائی کہ امریکہ افغانستان میں کامیاب ہو رہا ہے۔ یہ دستاویزات اس بات کی دلیل ہیں کہ امریکی اعلی حکام نے اپنے عوام کو 18 سال تک بیوقوف بنایا۔

امریکی دفاعی تاریخ میں ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل 1971 میں بھی امریکی حکام نے ویت نام کی جنگ کے حوالے سے بھی اپنی عوام سے جھوٹ بولا۔ ویت نام کی جنگ کی منصوبہ سازی کی دستاویزات میں ، جو پینٹاگان پیپرز کے نام سے مشہور ہوئیں، اور جو بعد ازاں لیک ہو کر شائع بھی ہوئیں، یہ واضح طور پر تسلیم کیا گیا تھا کہ ویت نام کی جنگ میں شکست کے حوالے سے ا مریکی حکومت نے اپنی عوام سے منظم جھوٹ بولا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آزاد ذرائع ابلاغ کے مطابق افغانستان میں امریکی دخل اندازی بُری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ در حقیقت امریکہ افغانستان کے لیے متعین کردہ اہداف میں سے ایک ہدف بھی حاصل نہیں کر سکا۔ ان اہداف میں افغانستان میں ایک مضبوط، جمہوری اور کرپشن سے پاک مرکزی حکومت کا قیام، طالبان کی شکست، افغانستان سے پوست کے کھیتوں کا خاتمہ، جو دنیا بھر میں ہیروین کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، ایک موثر فوج اور پولیس اور مستحکم معیشت کا قیام شامل تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے وقت میں جب امریکی جنرلز اور اعلی سیاسی عہدے داران اپنی جعلی فتح کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں، نجی طور پر وہ واضح طور پر پریشان اور متزلزل نظر آتے ہیں۔

دوسری طرف ماہرین کی رائے منقسم نظر آتی ہے۔ افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر ریان کاکر کے مطابق امریکہ کا افغانستان میں موجود رہنا ضروری ہے۔ اس موجودگی کی وجہ، کاکر کے مطابق، امریکی مفادات کی حفاظت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ افغانستان کی تعمیر نو کا ہدف حاصل نہ بھی ہو سکے تب بھی امریکہ کا اپنے عوام کی حفاظت کے لیے یہاں موجود رہنا لازمی ہے۔  

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار مائیکل او ہینلن کہتے ہیں کہ یہ کہنا غلط ہو گا کہ جھوٹ بولا گیا کیونکہ عہدے داران کو اس بات کا ہمیشہ سے ہی ادراک تھا کہ ان کی پالیسی غلط اور ناکامی سے دوچار ہے۔ او ہینلن نے، واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے حاصل کی گئی دستاویزات میں امریکی حکام کے بیانات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

گورڈن ایڈمز کہتے ہیں کہ امریکی جھوٹ اور ملمع سازی کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں ہے اور حقائق کو چھپانے، دھوکہ دہی اور صریح جھوٹ نے امریکی دفاعی پالیسی کی ناکامیوں پر دہائیوں تک پردہ ڈالے رکھا۔ یہ درحقیقت امریکہ ہی تھا جس نے نہ صرف ایران اور گوئٹے مالا میں جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کا تختہ الٹا بلکہ عراق میں صدام حسین کے خلاف بھی ڈرامہ رچایا۔

ایڈمز اس جھوٹ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دفاعی امور میں جھوٹ بولنا ہر ریاست کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ نہ صرف اپنے دشمنوں کو گمراہ کیا جا سکے بلکہ اپنی غلطیوں اور ناکامیوں پر پردہ بھی ڈالا جا سکے۔ اس کا دوسرا مقصد داخلی طور پر اپنی پالیسیوں کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا اور حزب اختلاف کو شکست دینا ہوتا ہے۔ ناکامیوں پر جھوٹ بولنے اور اسے صیغہ راز میں رکھنے کا مقصد عوام الناس کی نظروں سے دور رہ کر پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا بھی ہوتا ہے۔ سرکاری طور پر کسی بھی سرکاری عہدے دار کے لیے اپنے جھوٹ کا اقرار کر کے اپنی پالیسی کو بدلنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ سرکاری عہدے داران کو اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ جھوٹ کا اقرار کرنے سے ملک اور ان کی اپنی سیاسی ساکھ اور عزت داو پر لگ سکتی ہے۔

افغانستان پیپرز درحقیقت اس بات کے غماز ہیں کہ سرکاری اور دفاعی عہدے داران ہمیشہ سچ کو دبا کر جھوٹ بولنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے۔ افغانستان پیپرز پر اٹھنے والی چند آوازیں اور بڑے طبقے کی خاموشی یہ ثابت کرتی ہیں کہ دنیا کی نظر میں سب سے بڑی جمہوریت یعنی امریکہ اب بھی اصل جمہوریت اور حکومتی ساکھ سے میلوں دور ہے۔

افغانستان کی تعمیر نو کے خصوصی انسپکٹر جنرل کی تفصیلی آڈٹ رپورٹس یہاں پڑھیں

متعلقہ خبریں

Leave a Comment