جسٹس گلزار نے 27 ویں چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھا لیا

چیف جسٹس گلزار احمد اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے

اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کے سبکدوش کے بعد نامزد چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس گلزار احمد نے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس گلزار احمد سے حلف لیا۔

جسٹس گلزار حلف اٹھانے کے بعد پاکستان کے 27ویں چیف جسٹس بن گئے ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد یکم فروری 2022 تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔ حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی جس میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اہم سیاسی و عسکری شخصیات نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ وزارت قانون نے چیف جسٹس گلزار احمد کی نامزدگی کا نوٹیفیکشن 04 دسمبر کو جاری کیا تھا۔ وزارت قانون نے 22 نومبر کو جسٹس گلزار احمد کی نامزدگی کی سمری وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ارسال کی تھی۔

 

یہ بھی پڑھیں: میرے، عدلیہ کے خلاف گھناونی سازش شروع ہو گئی: چیف جسٹس

 

چیف جسٹس گلزار احمد کون ہیں؟

جسٹس گلزار احمد 2 فروری 1957 کو صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی گریجویشن گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی جبکہ قانون کی ڈگری ایس ایم لاء کالج کراچی سے مکمل کی۔ اٹھارہ جنوری 1986 کو بطور وکیل، اپنے سفر کا آغاز کرنے والے جسٹس گلزار احمد 1999-2000 میں سندھ ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔ جوڈیشل افسر کے طور پر جسٹس گلزار احمد کے کیرئیر کا آغاز 27 اگست 2002 کو ہوا جب وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج تعینات ہوئے۔ جسٹس گلزار احمد کو 16 نومبر 2011 کو ترقی دے کر سپریم کورٹ میں تعینات کر دیا گیا۔

 

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنا آخری مقدمہ نمٹا دیا

 

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سبکدوش

واضح رہے کہ جسٹس گلزار احمد سے قبل چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات جسٹس آصف سعید کھوسہ گزشتہ روز (20 دسمبر)   اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے۔

ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ دو سابق وزرائے اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلے سنانے والے بینچ کا حصہ رہے ہیں۔ دونوں فیصلوں میں اس وقت کے وزرائے اعظم کو نااہل قرار دے کر عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ 21ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کو درست قرار دینے والے عدالتی بینچ کا بھی حصہ رہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment