سانحہ ء پی آئی سی: ڈاکٹر عرفان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

لاہور: لاہور کی سیشن کورٹ نے متنازع تقریر کر کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں ہنگامہ آرائی کی مبینہ وجہ بننے والے ڈاکٹر عرفان  کے خلاف انکوائری مکمل کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ حیدر زمان ایڈوکیٹ کی جانب سے مقدمے کےاندراج کے لیے دائر کی جانے والی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج نے سماعت کی۔

سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پروسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کہ ڈاکٹر عرفان کے خلاف درخواست پر انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے  سائبر کرائم سرکل کو درخواست گزار کے علاوہ اور وکلا کی درخواستیں بھی موصول ہوئی ہیں جن پر کارروائی کی جارہی ہے۔

عدالت نے ڈاکٹر عرفان کے خلاف انکوائری شروع کرنے کی ایف آئی اے کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا تے ہوئے درخواست نمٹاتے ہوئے ایف آئی اے کو ڈاکٹر عرفان کے خلاف انکوائری کے عمل کو تیز  اور مکمل کرنے کا حکم صادر کر دیا۔

یاد رہے  کہ گزشتہ روز حیدر زمان ایڈووکیٹ کی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے سماعت کی اور (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سرکل سے ڈاکٹر عرفان کی تقریر کی ویڈیو سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔ درخواست گزار نے درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ وکلا پر تشدد کے معاملے میں ڈاکٹر عرفان نے وکلا کی تذلیل کی۔ درخوات میں مزید کہا گیا کہ  اس ویڈیو  کے ذریعے سوچی سمجھی سازش کے تحت وکلا کو اکسایا گیا اور یہ تقریر انسانی جانوں کے ضیاع اور ہنگامہ آرائی کا سبب بنی۔ حیدر زمان ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ ڈاکٹر عرفان کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

وکلا کی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہنگامہ آرائی

واضح رہے کہ 11 دسمبر 2019 کو لاہور میں وکلا کے ایک ہجوم نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں  ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے پی آئی سی کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی تھی ۔ حکومت پنجاب کے مطابق اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے طبی امداد نہ ملنے سے 3 مریض جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد 250 سے زائد وکلا کے خلاف 2 ایف آئی آر درج کی گئیں ۔

پی آئی سی پر حملے کے الزام میں 81 وکلا کو گرفتار کیا گیا  جن میں سے 46 وکلا کو  لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment