کسی بھی جعلی بھارتی کاروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا: عمران خان

اسلام آباد: بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے حالیہ اشتعال انگیز بیان کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے  سخت بیان جاری کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے عالمی برادری کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی بھی جعلی کاروائی کا سہارا لیتا ہے تو پاکستان کے پاس منہ توڑ جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو گا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران یہ ہرزہ سرائی کی تھی کہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ حالات کسی بھی وقت مزید خراب ہو سکتے ہیں اور بھارتی فوج کسی بھی جارحیت کا سامنا کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی حکومت کے گزشتہ 5 سال کے دور حکومت میں نسلی بالادستی کےسفاک نظریے ہندوتوا کے سائے میں بھارت کا رخ ہندوراشٹرا کی جانب موڑا گیا۔ ہندوستان میں حال ہی میں منظور کیے جانے والے شہریت بل پر تبصرہ کرتے ہوئے  عمران خان نے کہا کہ اس قانون نے بھارت کو احتجاج کی راہ پر لا کھڑا کیا ہے اور اس کے نتیجے میں ہندوستان میں ایک بڑی تحریک ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔

مزید پڑھیں: حالات پھر خراب ہو سکتے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف کی ہرزہ سرائی

کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ کیے ہوئے ہے اور اس محاصرے کے اٹھتے ہی قتل و غارت کا اندیشہ ہے۔ عمران خان نے اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی کہ بھارت میں بڑھتا عدم استحکام اور احتجاج پاکستان کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔ ان کے مطابق  بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان سے فالس فلیگ آپریشن سے متعلق ہمارے خدشات کو مزید تقویت ملی ہے۔

تاہم عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں واضح کیا کہ وہ ایک عرصے سے اقوام عالم کو اس صورتحال سے خبردار کررہے ہیں اور آج پھر اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ اگر بھارت کی جانب سے اپنے اندرونی خلفشار سے توجہ ہٹانے اور ہندو قومیت کے جذبات مشتعل کرنے کے لیے ایسی کسی بھی کارروائی کا سہارا لیا گیا تو پاکستان کے پاس ‘منہ توڑ’ جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

 

واضح رہے کہ بھارت میں حال ہی میں منظور کیے گئے  متنازع شہریت قانون پر پورے بھارت میں  احتجاج جاری ہے اورعوام کی جانب سے اس قانون کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment