مریم نواز کا بیرون ملک جانے کیلئے ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

لاہور: پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نام نکلوانے کے لیے ایک مرتبہ پھر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کا 2 رکنی بینچ 23 دسمبر (پیر) کو مریم نواز کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

اس سے قبل مریم نواز نے 7 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ہی  ای سی ایل سے اپنا نام نکلوانے کے درخواست جمع کروائی تھی۔ 9 دسمبر کو جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے حکومت کی کمیٹی کو 7 روز میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی نظرثانی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی تھی۔

مریم نواز کے وکلا محمد امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے دائر کی گئی تازہ  درخواست میں ایک بار پھر مریم نواز کو 6 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی استدعاکی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کی ہدایت دی جائے۔

دائر کی جانے والی درخواست میں وفاقی حکومت، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، ڈائریکٹر ایف آئی اے، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اسلام آباد اور ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو (نیب) کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست کے متن میں کہا گیا کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے 20 اگست، 2018 کے میمورنڈرم کو غیر قانونی قرار دیا جائے کیونکہ یہ عدلیہ کے قانونی مفاد میں بھی نہیں۔

مریم نواز کی ضمانت

مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو 8 اگست 2019 کو چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 25 ستمبر2019 کو احتساب عدالت نے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ مریم نواز نے 30 ستمبر کو اسی کیس میں ضمانت بعد ازگرفتاری کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔ نیب نے اس درخواست پر مریم نواز کی انسانی بنیادوں پر ضمانت کی مخالفت کی تھی۔ تاہم عدالت عالیہ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت کو منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن انہیں اپنا پاسپورٹ اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا کہا گیا تھا۔ بعد ازاں نیب نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مریم نواز کو دی گئی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں