جنرل اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست پر وزارت داخلہ کو نوٹس


اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) اسددرانی کی ای سی ایل سے نام نکلوانے کے درخواست میں وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ای سی ایل نام نہ نکالنے کاوزارت داخلہ کا31 اکتوبر کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل ممبر بنچ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ سماعت کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر)اسددرانی کی جانب سے ان کے وکیل عمر فرخ آدم پیش ہوئے۔

جنرل اسد درانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ پروفیشنل کام اور اپنے اہل و عیال سے ملنے کے لیے بیرون ملک جانا ہیں۔  ان کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ میں اور میری بیوی قابل فخر پاکستانی ہیں اور ہم نے دوہری شہریت بھی نہیں رکھی۔ جنرل (ر) اسد درانی کے مطابق ای سی ایل میں نام رکھنا بلیک میل یا خاموش کرانے کی کوشش ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملک کے لڑتا رہا ہوں ابھی بھی اپنی ایمانداری کا تحفظ کررہا ہوں۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وزارت داخلہ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.