جیسا کرو گے ویسا بھرو گے

روزینہ علی


آج کل عوام اپنے حق کو تھوڑا بہت جان ہی گئے ہیں۔ اس لیے ہر دوسرے دن کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی اپنے حق کے لیے آواز اٹھا رہا ہوتا ہے، احتجاج کر رہا ہوتا ہے۔ ویسے احتجاج سے یاد آیا، بچپن سے سنا تھا کہ موسم صرف چار ہوتے ہیں، لیکن اسلام آباد میں تبدیلی کا پانچواں موسم بھی آ گیا ہے۔ کئی سال تبدیلی کی ہوائیں چلییں۔ ،مسلم لیگ ن کے دور میں ان ہواوَں نے طوفان کا رخ اختیار کیا اور پھر تحریک انصاف کے دھرنے اور احتجاج سے تبدیلی کی گھن گرج ملک بھر میں سنائی دینے لگی۔ شروعات تحریک انصاف نے کی اور وہ جو تبدیلی کے نعرے لگاتے تھے بالآخر اسی نعرے کی بنیاد پر 2018 کے انتخابات جیت کر مسند اقتدار پر براجمان ہو گئے۔ عوام کی امیدیں یقین میں بدل گئیں کہ تبدیلی آ گئی، اب اس نئے پاکستان میں سب اچھا ہوگا۔ اب کہیں مہنگائی ہو گی نہ غربت، نہ بیماری ، نہ دہشتگردی، بس سب اچھا ہی اچھا ہوگا۔ اتنا اچھا کہ پاکستان ایک عام ریاست نہیں جنت بن جائے گا، جس میں کوئی بھوکا نہ ہوگا، کوئی بے روزگار نہ ہوگا۔ پھر خود وزیر اعظم نے ملک کو ریاست مدینہ کہا تو عوام کا یقین اور پختہ ہو گیا۔ گزشتہ ادوار کی حکومتوں پر جو برستے تھے، چیختے تھے انہوں نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں۔ خوشی کی نہیں خوف کی اور مہنگائی کی۔ اور اب نئے پاکستان میں احتجاج بھی ان کو برا لگنے لگا ہے۔ لیکن ان چیخوں کے شور میں تبدیلی حکومت حق کی سچ کی آواز نہیں سننا چاہتی۔ کچھ لوگ عزت کے خوف سے آواز اٹھاتے ہی نہیں، احتجاج کرتے ہی نہیں کہ حکومت نے آواز تو دبا ہی دینی ہے۔ اب غریب کیا کرے بھوکا مرے، احتجاج نہ کرے؟ احتجاج سڑکوں پر دن بھر خاک چھاننے والی بچیوں کے خلاف کیوں نہیں ہوتا کہ وہ بھیک نہ مانگیں، جہاں ایسے بچے نظر آئیں، فورا ایکشن لیتے ہوئے انہیں بہتر زندگی دی جائے۔ سڑکوں پر پھرتے آوارہ کتوں اور بھیڑیوں سے انہیں بچایا جائے۔ احتجاج پر مزید بات کرتے ہوئے یاد آ رہا ہے بچیوں کا عالمی دن آیا تو میں رپورٹ بنانے گئی۔ یوں تو ریاست مدینہ میں بچیاں ملتی ہی نہ لیکن اندازہ غلط تھا، پاکستان پرانا تھا، اور کئی بچیاں پھٹے پرانے کپڑوں میں آنکھوں میں بڑے بڑے خواب لے کر بھیک مانگ رہی تھیں۔ کچھ گاڑیاں صاف کر رہی تھیں۔ وہ اور کرتیں بھی کیا؟ احتجاج کس کے خلاف کرتیں؟ انکو تو دو وقت کی روٹی کے لیے بس چار پیسے چاہئیے تھے۔ غربت نے سڑک پر آنے پر مجبور کر دیا تھا، لیکن آنکھوں سے ہوس کی رال ٹپکائے کئی بھیڑئیے انہیں تکتے رہے۔ کئی گندی غلاظت بھری وحشی آنکھیں ان پر جمی رہتی اور میں نے کئی بار سوچا اس پر احتجاج کیوں نہیں ہوتا۔ تنظیمیں سیاسی رہنما احتجاج کیوں نہیں کرتے۔ سڑک پر کیوں نہیں آتے؟ آگے چلیے ملک کا مستقبل سنوارنے والے اساتذہ احتجاج کے لیے نکلے تو حکومت کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ نیا پاکستان تھا اس نئے پاکستان میں احتجاج کا حق کم ہی ہے۔ یہ سب باتیں تو پرانے پاکستان میں اچھی لگتی تھیں۔ زیادہ دور نہیں جاتی ، ماضی کے بوسیدہ اوراق کو نہیں کھولتی، بس ابھی کی بات کر لیتے ہیں، بالکل ابھی کی۔ سب کا کچرا اٹھانے والے، شہر کو صاف ستھرا رکنے والے  ورکرز کو تین ماہ سے تنخواہ ہی نہیں ملی۔ زیادہ تر وہ ورکرز ہیں جنکا کرسمس تہوار قریب ہے، لیکن تنخواہ نہیں آئی۔ کیا کریں، سڑکوں پر نکلے بیٹھے رہے۔ شنوائی نہ ہوئی تو تنگ آ کر انوکھا احتجاج کر دیا۔ شہر بھر کی سڑکوں پر کچرا پھیلا دیا۔، ہر آنے جانے والا شہری پریشان تھا کہ ماجرا کیا ہے۔ شہر کیوں گندا ہے؟ ماجرے کی حقیقت سب پر عیاں ہوئی تو بولے ٹھیک ہے تبدیلی سرکار میں احتجاج سب کا حق ہے پھر چاہے انداز کچھ بھی ہو ۔ سوال یہ ہے یہ کیسی ریاست مدینہ ہے جہاں غریب کا حق اس کو احتجاج سے پہلے سڑک پر دھکے کھانے سے پہلے نہیں ملتا۔ غریب کو روٹی فاقوں سے پہلے نہیں ملتی۔احتجاج سب کا حق ہے مہنگائی جس قدر جڑیں مضبوط کر رہی ہے لگتا ہے جلد ہی پھر عوام کا احتجاج ہوگا، عوامی احتجاج تبدیلی سرکار عوامی احتجاج!


Leave A Reply

Your email address will not be published.