کھاد کے لیے سبسڈی سسٹم پر سوچنے کی ضرورت ہے: اسد عمر


اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ، ترقیات اور خصوصی اقدام اسد عمر، وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق مخدوم خسرو بختیار ، مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، صنعت و پیداوار اور سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کھاد کی صنعت کے نمائندوں سے ملاقات کی اور کھاد کی فراہمی اور قیمتوں سے متعلق امور پر بات کی۔

اجلاس میں کسانوں کو کھاد کی قیمتوں کو سستا بنانے اوراس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مختلف طریقوں اور ذرائع پر غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ، ترقی اور خصوصی اقدام اسد عمر نے کہا کہ حکومت کسانوں کو سستی کھاد فراہم کرنے کے لئے بھاری سبسڈی فراہم کررہی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ سبسڈی کے طریقہ کار پر مزید سوچنے کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کاشتکاروں کو براہ راست سبسڈی دینا زیادہ فائدہ مند ہوگا۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ حکومت مستقبل میں کھاد کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے جی آئی ڈی سی کو ختم کرنے پر بھی غور کرے گی۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ حکومت معیشت کے مختلف شعبوں کی ڈی ریگولیشن پر یقین رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کھاد کی صنعت کے نمائندوں سے کھاد کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لئے تجاویز بھی طلب کیں۔

کھاد کی صنعت کے نمائندوں نے وزراء کو اپنی فیکٹریوں کی صلاحیت اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ دو ہفتوں میں اپنی تجاویز حکومت کو پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ کھاد کی قیمتوں کے حوالے سے مشیر صنعت و تجارت کی صدارت میں قائم کمیٹی کا آج کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا تھا۔ حکومتی کمیٹی نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر قرار دے دیا۔ کھاد انڈسٹری کی جانب سے واضح کردیا ہے کہ گیس مہنگی ہونے پر یوریا کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی۔ کھاد انڈسٹری نے موقف اختیار کیا کہ گیس مہنگے ہونے کی وجہ سے کاشتکاروں کو مہنگی یوریا خریدنی پڑے گی۔ اجلاس میں یوریا کی دستیابی اور قیمتوں پر غور کیا گیا جبکہ اجلاس میں اوگرا کی جانب سے گیس قیمتوں میں مزید اضافے کی سفارشات پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، خسرو بختیار اور معاون خصوصی ندیم بابر نے شرکت کی۔ کھاد کی قیمتوں کے حوالے سے آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس ہو گا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم نے کھاد کی قیمتوں میں اضافے پر چھ رکنی کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.