قندوز دھماکہ: طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

کابل: طالبان نے پیر کے روز امریکی فوج پرحملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جس میں ایک امریکی سروس ممبر کی ہلاکت اور متعدد امریکی اور افغان فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو ایک واٹس ایپ پیغام میں بتایا کہ ان کے مجاہدین نے اتوار اور پیر کی درمیانی رات  قندوز کے ضلع چار درہ میں ایک امریکی گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا۔ امریکی فوج نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر حملے کی تصدیق کر دی ہے۔

پچھلے مہینے افغانستان کےمشرقی صوبہ لوگر میں امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ طالبان نے  ہیلی کاپٹر گرانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن امریکی فوج نے طالبان کے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

پیر کو ہونے والی اموات سے اس سال افغانستان میں امریکی اموات کی کل تعداد 20 ہو گئی ہے۔ 18 سالہ جنگ میں اب تک تقریبا 2400 سے زائد امریکی ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس سال ستمبر کے مہینے میں افغانستان کے ضلع بگرام میں امریکی افواج کے بڑے ہوائی اڈے پر طالبان نے ایک بڑے خودکش کار بم دھماکے میں متعدد امریکی ہلاک اور زخمی کر دئیے تھے۔ اس حملے کے  ایک روز بعد ہی امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان سے جاری مذاکرات ختم کر دیے تھے۔ امریکہ اب افغانستان کی جنگ سے باعزت نکلنا چاہتا ہے اس لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کو اچانک منسوخ کرنے کے تین ماہ بعد ہی  طالبان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کر دئیے ہیں۔

یاد رہے حال ہی میں ایک امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے خفیہ دستاویزات کی بنیاد پر دعوی کیا ہے کہ افغانستان میں بری طرح ناکام ہونے کے باوجود امریکی حکومت اور فوج عوام سے 18 سال تک جھوٹ بولتی رہی۔ بعد ازاں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس دعوے کو مسترد کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment