ہائے ری جمہوریت!!

سلمی کوثر ہم نیوز سے بطور اینکر وابستہ ہیں۔ اس سے قبل وہ کیپیٹل ٹی وی اور ذرائع ابلاغ کے دیگر اداروں میں مختلف عہدوں پر خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔

پاکستان کا کوالالمپور سمٹ میں نہ جانے کا فیصلہ، قومی تشخص کو مسخ کرنے کا آغاز ہے۔ ابھی تک تو پاکستان کے اس فیصلے پر دوست ملک ترکی کے صدر نے ہی معاملے پر منہ کھولا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب سے دھمکیاں ملیں۔ ابھی جانے کتنی قیاس آرائیاں ہوں گی، کتنی زبانیں کھلیں گی اور حکومت نئی نویلی دلہن کی طرح واضح مؤقف دینے سے کتراتی رہے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم اپنا قومی تشخص اور اپنی خود مختاری گروی رکھ چکے ہیں؟ کیا حکومت صرف ایک شخص واحد کا نام ہے؟ کیا عمران خان پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے قائم کرنے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی کوئی ذمہ داری نہیں؟

تمام فیصلے، خواہ وہ آئی ایم ایف کی فرمائشی اصلاحات کے ہوں یا فارن پالیسی کے، خواہ اندرونی خلفشار سے نمٹنے کی بات ہو یا سرحدوں پر کشیدگی کے معاملے ہوں، خواہ مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی بات ہو یا  ملکی اداروں کے درمیان تناؤ کی، اگر صرف وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کی صوابدید ہیں اور اپوزیشن کا کام صرف سڑکوں پر احتجاج کی سیاست ہے، تو بلا شبہ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ ایسی جمہویت تو آمریت سے بھی بدتر ہے جس میں بغیر کسی آئینی ترمیم کے جنگل کا قانون نافذ ہو جائے۔ وکلاء اسپتالوں پر حملے کریں ، اور صوبے میں انتظامیہ کا کوئی ذمہ دار موجود ہی نہ ہو۔ سینٹری ورکرز تنخواہیں مانگنے کے لیے سڑکوں پر بیٹھے ہوں اور عوام مہنگائی  پر بلکتی رہے، آئے دن کسی معصوم خاندان کو ریاستی محافظ بچوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالیں، اسپتالوں میں لوگ غلط علااج سے مرتے رہیں اور غریب کو کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملے، افسوس! صد افسوس۔

اس ملک کے حالات یہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں دیتے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کوئی رتبہ اور مقام ہے۔ ایک ایٹمی قوت کو ایسے دم دبا کر بیٹھ جانا ہرگز زیب نہیں دیتا۔ ہمیں چاہئے تھا کہ ہم اپنی خود مختاری داؤ پر لگانے سے قبل حالات کی نزاکت کا خیال کرتے، ترکی اور ملایشیا کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں ، بالکل اسی طرح جسطرح سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ اگر کسی نے پاکستان کی مدد کی ہے، تو اسے پاکستان کے اہم معاملات میں مداخلت کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی، ورنہ گرین پاسپورٹ پر سفر کرنے والے منہ چھپاتے پھریں گے۔

معاملہ صرف اربوں ڈالر کی امداد کا ہوتا تو قوم ہضم کر لیتی، مگر یہ پیسہ سرکار کی باندی ہے، قوم مقروض ہوتی چلی جا رہی ہے ، حالات بدل کر نہیں دیتے ،غریب آدمی غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment