احسن اقبال کا 13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت نے احسن اقبال کو 13 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت نے نیب کی استدعا پر سابق وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا 13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ عدالت کی جانب سے نیب کو احسن اقبال کی سرجری کا بھی بندوبست کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

دوران سماعت نیب نے موقف پیش کیا کہ اختیارات کا ناجائزاستعمال کرکے خزانے کونقصان پہنچانا بھی کرپشن ہے۔ اس سے قبل گزشتہ روز گرفتار ہونے والے احسن اقبال کو نیب نے احتساب عدالت میں پیش کیا۔

نیب نے جج احتساب عدالت سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے تحریری الزامات پیش کیے، جن میں نارووال سپورٹس منصوبے کی لاگت بڑھانے، صوبائی منصوبے میں مداخلت اوراختیارات کےناجائز استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ احسن اقبال کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اورکہا منصوبے کی منظوری سی ڈی ڈبلیو پی نے دی۔ احسن اقبال بولے کہ میرے بازو پر گولی لگی تھی، اس کی سرجری ہونی تھی۔ 19 تاریخ کو میری سرجری ہونی ہے تو میں نے نیب کو کہا کہ اس کے بعد بلا لیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ میں ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا اور نیب میں پیش ہوا۔ نیب 20 ماہ سے تفتیش کر رہا ہے لیکن کوئی کرپشن نہیں ملی۔ بے گناہی ثابت کرنے نیب دفترپہنچا توگرفتارکرلیا گیا۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ احسن اقبال نے پی سی ون اپنی نگرانی میں اپروو کیا۔ احسن اقبال نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ ہم نے پنجاب حکومت سے ریکارڈ مانگا ہے، جسے احسن اقبال سے کنفرنٹ کرانا ہے۔ احسن اقبال کے وکیل نے کہا کہ احسن اقبال پر کمیشن یا کک بیکس کا کوئی الزام ہے، پراسیکیوٹر نیب ہاں یا نہ میں بتائیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ کک بیکس نہ بھی ہوں، اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے خزانے کو نقصان پہنچانا بھی کرپشن ہے۔

احسن اقبال کے وکیل نے احسن اقبال کی  اہل خانہ سے ملاقات کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ مریم اورنگزیب اور سعدیہ عباسی کو بھی ملنے کی اجازت دی جائے۔ احسن اقبال سی پیک پر کتاب لکھ رہے ہیں، لیپ ٹاپ رکھنے کی اجازت دی جائے۔ اس استدعا پر عدالت نے احسن اقبال کو اہل خانہ اور مریم اورنگزیب سے ملاقات کی اجازت دے دی۔

احتساب عدالت میں پیشی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اگر انہیں پرویزمشرف کی سزا کی حمایت، نارووال  کے عوام سے کیا وعدہ پورا کرنے، نوازشریف اور مسلم لیگ ن کا وفادار ہونے پر سزا دی گئی تو انہیں قبول ہے۔  اگر حکومت کے خلاف بولنے سے روکنے کے لیے سزا دی گئی تو قبول نہیں۔  اوچھے ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہوں گے۔

عدالت نے احسن اقبال کا تیرہ روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرتے ہوئے چھ جنوری پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment