مذہبی آزادی سے متعلق امریکی الزامات مسترد

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقہ

اسلام آباد: پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکا کے محکمہ خارجہ کی جانب سے پاکستان کو مذہبی آزادی کے حوالے سے واچ لسٹ پر رکھنے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کر دیا ہے۔ اس رد عمل میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک ہو رہا ہے لیکن اس کو نظر انداز کردیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ” پاکستان، امریکا کے محکمہ خارجہ کی جانب سے 20 دسمبر 2019 کو مذہبی آزادی کے حوالے سے جاری رپورٹ کو مسترد کرتا ہے۔ یہ اعلان نہ صرف پاکستان کی اصل صورت حال سے ناواقفیت ہے بلکہ اس پورے عمل کی شفافیت اور اعتبار پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔” ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ”یہ فہرست مخصوص ممالک کو نشانہ بنانے کی عکاس ہے اور یہ مذہبی آزادی کے مقصد کے خلاف مددگار ہوگی۔”

واضح  رہے کہ امریکا نے 20 دسمبر کو مذہبی آزادی کے حوالے سے ایک فہرست جاری کی تھی۔ اس فہرست میں پاکستان کے علاوہ میانمار، چین، شمالی کوریا، سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک  کو خصوصی تشویش والے ممالک (سی پی سی) کی فہرست میں دوبارہ شامل کیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ اس فہرست میں شامل ممالک پر الزام ہے کہ یہ باقاعدہ منظم طریقے سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں شامل ممالک کو امریکا کی جانب سے معاشی پابندیوں سمیت مزید کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی فہرست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان ایک کثیرالمذہبی ملک ہے جہاں ہر عقیدے کے لوگوں کو آئین کے تحفظ کے تحت مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”رواں برس کے آغاز میں امریکا کے عالمی مذہبی آزادی کے سفیر سینیٹر سیموئیل براؤن بیک کو پاکستان میں عالمی سطح پر مذہبی آزادی سے متعلق مذاکرے پر خوش آمدید کہا گیا تھا۔”

دوسریہ طرف اس فہرست میں بھارت کی عدم شمولیت پر سوال اٹھاتے  ہوئے ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ” اس فہرست سے بھارت کا اخراج محکمہ خارجہ کی جانب داری اور فہرست کی معروضیت کو مزید واضح کر رہا ہے کیونکہ بھارت مذہبی آزادی کا سب سے بڑا خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے۔ بھارت کے کشمیریوں کے ساتھ رویے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں طویل جبر اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر امریکا کی کانگریس نے دو سماعتیں کی ہیں اور 70 امریکی قانون سازوں نے کھلے عام گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔”

عائشہ فاروقی نے کہا کہ ”آج بھارت میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو استثنیٰ کے ساتھ ہجوم میں تشدد سے ہلاک اور قتل کیا جارہا ہے، انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔” اپنے بیان میں ان کا  کہنا تھا کہ ”حال ہی میں منظور کیا گیا شہریت ترمیمی بل (سی اے اے) بھارتی حکومت کا عوام سے امتیازی سلوک اور معاشرے کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی جانب راستہ ہموار کرنے کی تازہ مثال ہے۔”

متعلقہ خبریں

Leave a Comment