بٹ کے رہے گا ہندوستان!

سلمی کوثر


بھارت کے متنازعہ شہریت بل پر راحت اندوری کے خوبصورت اشعار یاد آتے  ہیں!!

لگے گی آگ تو آئیں گے سبھی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

یہ بات ہر ہندوستانی کو سمجھ بھی آچکی ہے۔ اسی لیے بھارت میں جو احتجاج جاری ہے وہ اصل میں مسلمانوں کے لیے درد دل رکھنے والوں لوگ ہی نہیں کر رہے بلکہ وہ طبقہ بھی ہم آواز ہے جسے ہندتوا نظریہ دم توڑتا دکھائی دیتا ہے۔ آج یہ تفریق مسلمان اور ہندو کے درمیان ہے کل براہمن اور شودر میں ہو گی۔ اس بل کی اصل روح ہی بنیادی طور پر ہندو کمیونٹی کو آواز اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے، اور نہ صرف آواز اٹھائی جا رہی ہے بلکہ کشمیر کے سسکتے بلکتے عوام کے لیے بھی اب درد جاگنے لگا ہے ۔  اب ذرا یہ دیکھ لیا جائے کہ مودی سرکار نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری کیسے۔

بھارت کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے 9 دسمبر کولوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل پیش کیا۔  جسے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اس طرح بھارت میں رائج 1955 کے شہریت قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔  امت شاہ نے ایوان میں یہ بل پیش کرتے ہوئے اس میں ترمیم کو بھارتی آئین کے مطابق اور معقول درجہ بندی کہا تھا۔  بھارتی آئین کا آرٹیکل 11 شہریت دینے کے معاملے سے متعلق ہے، جس میں وفاقی حکومت کو حق دیا گیا ہے کہ وہ معقول درجہ بندی کرتے ہوئے غیر ملکیوں کو شہریت دینے کے قانون میں ترمیم کر سکتی ہے۔ حکمراں جماعت کے نزدیک معقول درجہ بندی کا پیمانہ بھارت کے آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 سے متصادم ہے۔  بھارت کا آئین سیکولرازم اور مساوات پر زور دیتا ہے لیکن مودی سرکار اسے نظرانداز کر رہی ہے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 کے مطابق ریاست ہرشخص سے برابری کی بنیاد پر سلوک کرے گی۔  اس آرٹیکل میں بھارت کے شہری کے بجائے بھارت میں موجود ہر شخص کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 15 کے مطابق ریاست مذہب، رنگ، نسل، ذات، جنس کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتے گی۔   آرٹیکل 15 میں لفظ ‘شہری’ استعمال کیا گیا ہے۔

اب شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے خلاف بھارت میں دو طرح کے مظاہرے جاری ہیں۔ اپوزیش جماعتیں بشمول انڈین نیشنل کانگریس اور مسلمان تنظیمیں اس بنیاد پر احتجاج کر رہی ہیں کہ یہ بل بھارت کی اساس سیکولر ازم کی روح کے برخلاف اور مذہب کے نام پر بھارت کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری نوعیت کا احتجاج خاص طور پر آسام اور تریپورہ کی شمال مشرقی ریاستوں میں کیا جا رہا ہے۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں، آسام اور تریپورہ میں ہونے والا احتجاج اس بات پر نہیں ہے کہ ترمیمی بل میں مسلمانوں کو کیوں علیحدہ رکھا گیا ہے۔  بلکہ یہ اس بات پر ہے کہ اس میں ہندوؤں کو کیوں شامل کیا گیا ہے۔  ان ریاستوں میں احتجاج کرنے والے غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ریاست سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔

بھارت کی ریاستوں آسام، تریپورہ، مغربی بنگال، میگھالیا اور میزو رام کی سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں۔  ان پانچ میں سے تین ریاستوں یعنی میگھالیا، میزو رام اور تریپورہ پر یہ ترمیمی بل لاگو ہی نہیں ہوتا۔ 1971 کے بعد بنگلہ دیشی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد آسام اور تریپورہ میں آباد ہوئی تھی۔  رواں سال نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزن (این آر سی) کے تحت آسام کی پوری آبادی کی شناخت کے لیے جانچ پڑتال کی گئی۔ اس کے ذریعے لگ بھگ 20 لاکھ افراد کی شہریت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ان افراد کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ عدالت میں اپنی شہریت ثابت کریں۔ ان میں لاکھوں ہندو شامل ہیں۔

بھارت کی چھ ریاستوں نے منظور کردہ بل کو اپنی ریاستوں میں نافذ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جس میں  پنجاب، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، کیرالہ اور چھتیس گڑھ شامل ہیں۔انڈین یونین مسلم لیگ، پیس پارٹی، ترنمول کانگریس کے علاوہ متعدد صحافیوں، قانون دانوں اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد نے بھارت کی سپریم کورٹ میں اس بل کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواستیں  بھی دائر کر رکھی ہیں۔  سلسلہ یونہی چلا تو بھارت میں چلنے والی علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑیں گی اور بھارت کی بنیادیں ہل کر رہ جائیں گی۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.