رانا ثناء اللہ ابھی بھی ملزم ہیں: شہریار آفریدی


اسلام آباد: وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ تاثر یہ دیا جا رہا ہے  کہ رانا ثنا اللہ شاید بری ہوگئے ہیں۔ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ رانا ثنا اللہ ابھی بھی ملزم ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ اس بات کا بھی مذاق اڑایا گيا کہ جان اللہ کو دینی ہے۔ جب آپ کہتے ہیں کہ جان اللہ کو دینی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے حلف اٹھانا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قانونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا ابھی تک آرڈر نہیں  آیا یہ نہیں کہ فیصلہ آپ کی مرضی کا آئے تو الگ موقف، خلاف آئے تو الگ موقف۔ شہریار  آفریدی نے کہا کہ اے این ایف ایک پروفیشنل فورس ہے۔ ہم نے پہلا فرد فیصل آباد سے پکڑا تھا اس کے بعد ہمیں لوگ ملتے گئے۔ ہم نے 17 دن میں تمام ثبوت فراہم کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں دن ٹرائل شروع ہونا تھا۔ کیس میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے ان کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ لوگ گھبراتے ہیں، ڈر جاتے ہیں، جتنا دباؤ آئے گا میں اس کا سامنا کروں گا۔

مزید پڑھیں: منشیات کیس: رانا ثنااللہ کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

شہر یار آفریدی نے کہا کہ میرے سارے بیانات نکال لیں۔ میں نے ہمیشہ کہا کہ ہم نے 17 دن میں ساری چیزیں فراہم کردی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام گواہان پیش کیے جائیں گے جب ٹرائل شروع ہوگا۔ یہ کام لیگل ٹیم کا ہے۔ ہم اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ یہ کہتے ہیں کہ وہ رئیل اسٹیٹ کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک پلاٹ بھی فروخت نہ کیا۔ کوئی چیز فروخت نہیں کی، سب چیزیں خریدی ہیں۔  شہر یار آفریدی نے سوال کیا کہ پیسے کہاں سے آئے؟ انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ یہ بھی کہتے ہے کہ وہ  وکیل ہیں، پانچ عدالتیں ہیں لیکن  آج تک کسی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ راناثنااللہ اپنی ہی پارٹی کے عابد شیر علی ان کے خلاف بولتے رہے۔ ن لیگ کے اپنے لوگ رانا ثنا اللہ کے خلاف کیا کہتے تھے؟ کیا وہ سب بھول گئے اور آج یہ معصوم بن گئے؟ رانا ثنا اللہ کا کیس عدالت میں ہے۔ انہیں عدالت نے ضمانت دی ہے بری نہیں کیا ہے۔

شہریار آفریدی نے مزید کہا کہ ویسے بھی یہ ضمانتوں کا موسم ہے۔ ایک وقت تھا کہ مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، اس کا کیا ہوا۔ نوازشریف کے پلیٹ لیٹس گر گئے تھے۔ نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے۔ ابھی تک علاج نہیں کرا رہے، وہاں شاپنگ کررہے ہیں۔ کیا قوم نہیں دیکھ رہی۔ وزیر مملکت شہریار آفریدی نے کہا کہ حکمران آئیں گے اور چلے جائیں گے۔ اصل چیز پاکستان اور پاکستان کے ادارے ہیں۔ ہمیں عام پاکستانیوں کی بات کرنی ہے۔

وزیراعظم اور ہماری پوری ٹیم نہ صرف عدالتوں پر یقین رکھتے ہیں بلکہ عدالتوں کی عزت سب پر فرض ہے، عدالتوں کا ہم دل سے احترام کرتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل میں ملک سے باہر تھا اور کابینہ میٹنگ میں بھی نہیں تھا۔ تاثر دیا گیا کہ یہ میدیا سے بھاگ رہے ہیں۔ عمران خان اور ہم کھڑے ہیں اور کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ ہم میدان میں کھڑے ہونے والے ہیں۔ ہم نہ ڈرنے والے ہیں، نہ گھبرانے والے، نہ جھکنے والے ہیں۔ معاملے میں آل آؤٹ جائیں گے۔  وزیراعظم اپنی ٹیم کو اہمیت دیتے ہیں۔ مجھ پر وزیراعظم کا اندھا اعتماد ہے اور وہ جانتے ہیں  کہ کس میں کتنا دم خم ہے۔ خدا کے لیے اس معاملے کا میڈیا ٹرائل نہ کریں۔ شہریا آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ تمام مافیاز جن پر حکومت نے ہاتھ ڈالا وہ پریشرائز کررہے ہیں۔ پاکستان ہم سب کا ہے ، کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.