پاکستان کی دھوم مچی ہے

روزینہ علی 24 نیوز کی نمائندہ ہیں۔ 2015 سے پارلیمنٹ، سیاست، اور موسمیاتی تبدیلیوں اور سپورٹس جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ کھیلوں سے سکول کے دور سے لگاؤ ہے۔ خود بھی صحافت کے ساتھ ساتھ کئی کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔

ٹیسٹ ہو گیا ، پاکستان اس ٹیسٹ میں پاس بھی ہو گیا۔ پاس کیا بلکہ اے گریڈ لے گیا۔ قومی ٹیم نے کرکٹ نے عوام کے دل جیت لیے۔ ہوم گراوَنڈ پر ہوم کراوَڈ کے سامنے تالیوں، سیٹیوں کے شور میں روشنیوں کے شہر کراچی میں پاکستان نے کرکٹ کو فتح کر لیا۔ ٹیسٹ کا امتحان گزرنے کے بعد بھی اس ٹیسٹ کا نشہ ختم نہیں ہوا۔ اب بھی ہر طرف ٹیسٹ ٹیسٹ کی باتیں ہیں۔ کیوں نہ ہوں آخر ایک طویل لمبی انتظار کی مسافت طے کی ہے۔

راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم سے جب کراچی ٹیمیں گئیں تو وہی چہ میگوئیاں تھیں کہ وہاں عوام کا سمندر نہیں ہوگا۔ میں نے سوچا یہ کیا بات ہوئی؟ سمندر کے شہر میں ہی عوام کا سمندر نہیں ہوگا، یہ تو بڑے اچھنبے کی بات ہے! لیکن چہ میگوئیاں، قیاس آرائیاں سب غلط ثابت ہوئیں۔ عوام اسٹیڈیم پہنچے، رفتہ رفتہ رش بڑھا، کھلاڑیوں کا بلا گھوما تو کبھی چوکا کبھی چھکا بھی لگا اور ہر بال اور بلے کے نشانے پر دنیا کو امن کا پیغام گھوم گھوم کر پہنچتا رہا۔  پاکستان کی فتح ہوئی، نہ بادلوں نے رکاوٹ ڈالی، نہ سورج چھپا، نہ آسمان سے مینہ برسا۔ قدرت نے بھی کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ آج ایک کھلاڑی کی نہیں بلکہ پوری قومی ٹیم کی تعریف ہو رہی ہے۔

ٹویٹر پر میں نے ذرا وقت نکال کے پھیرا لگایا تو پاکستانی اور سری لنکن تمام کھلاڑی خوش تھے۔ ٹویٹ پڑھے جن میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔ لکھا گیا تھا کہ پاکستان میں بہت مزہ آیا، پاکستان امن پسند ہے، پاکستان میں کرکٹ جیت گئی۔ دنیا کو پاکستان کے امن کا پیغام دیا جا رہا تھا۔ پاکستانی کھلاڑی ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کا شکریہ ادا کر رہی ہیں۔ ٹیموں کے کوچز خوش ہیں، کہ سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ سب پڑھ کر کے شکر ادا کیا کہ ہر طرف پاکستان کی دھوم ہے۔ لیکن ساتھ ہی دعا بھی اللہ اللہ کر کے جو ٹیسٹ کرکٹ بحال ہوئی وہ بحال ہی رہے۔ پاکستان دشمنوں کی نظر سے محفوظ رہے۔ ٹیمیں آتی رہیں اور پاکستان کی دھوم دنیا میں ہمیشہ ایسے ہی مچتی رہے۔ بس آج مختصرا ہی بس اتنا ہی کرکٹ کے امتحاں اور بھی ہے پاکستان زندہ باد!

متعلقہ خبریں

Leave a Comment