ایران بھارت گوادر پورٹ کے خلاف اکٹھے ہو گئے

Iran India Cha Bahar

تہران: بھارت کے وزیر خارجہ نے پیر کو  اسلامی ملک ایران کے دورے کے دوران کہا کہ دونوں ممالک ایرانی چا بہار بندرگاہ کی ترقی کو تیز کرنے پر اتفاق کرتے ہیں ۔ ایران کی چابہار بندرگاہ کو بھارت، ایران اور افغانستان مشترکہ طور پر تیار کر رہے ہیں- ایران کی چابہار بندرگاہ بحیرہ عرب میں پاکستان کی سرحد سے تقریبا 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اپنے ایک  ٹویٹ میں کہا  کہ بھارت اور ایران کے مشترکہ کمیشن اجلاس میں نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ اجلاس میں تعاون کے ہر پہلو کا جائزہ لیا گیا اور چابہار بندرگاہ پروجیکٹ کو تیز کرنے پر اتفاق ہوا ہے

ایران کے صدر حسن روحانی نے پیر کے روز بھارتی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس منصوبے سے خطے میں تجارت کو فروغ ملے گا۔ ایران کے صدر نے مزید کہا کہ زاہدان ریلوے کو مکمل کرنےاور اسے ایران کی قومی ریلوے سے جوڑنے سے چابہار بندرگاہ کی اہمیت اور بڑھ جائے گی اس سے ناصرف علاقائی تجارت میں انقلاب آئے گا بلکہ ایک ارزاں اور ایران کے اندر مختصر راستے سے سامان لے جانے میں مدد ملے گی۔

صدر روحانی نے کہا کہ علاقائی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ایران اور بھارت ملکر کام کرنے پر اتفاق کرتے ہیں  بھارت، ایران اور افغانستان چابہار بندرگاہ کومشترکہ طور پر تیار کر رہے ہیں – تینوں ممالک کی وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے لیےاس بندرگاہ کوایک راہداری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت اور پاکستان خطے کے دو بڑے ایٹمی حریف ہیں۔بھارت چابہار بندرگاہ سے خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتا ہے ۔بھارت ماضی میں ایران کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے۔ پاکستان کا مئوقف ہے کہ بھارت چابہار  بندرگاہ کے ذریعے صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو ہوا دیتا ہے ۔ یاد رہے بھارت کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبہ بلوچستان سے پکڑا تھا۔ بعد ازاں کلبھوشن یادیو نے یہ اقرار کیا تھا کہ اس نے ایران کی بندرگاہ چابہار سے سے کشتی رانی کی تربیت حاصل کی تھی اور وہ پاکستان اور  ایران کے  بارڈر سے پاکستان میں داخل ہوا تھا اور اس کا مقصد صوبہ بلوچستان میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں دہشتگردوں کی مدد کرنا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment