سال 2019 کھیلوں میں جیت گیا

روزینہ علی 24 نیوز کی نمائندہ ہیں۔ 2015 سے پارلیمنٹ، سیاست، اور موسمیاتی تبدیلیوں اور سپورٹس جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ کھیلوں سے سکول کے دور سے لگاؤ ہے۔ خود بھی صحافت کے ساتھ ساتھ کئی کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔

سال 2019 پاکستان میں کھیلوں کے لیے کافی اچھا ثابت ہوا۔ ٹیسٹ کرکٹ کی وطن واپسی ہوئی اور قومی ٹیم ہوم گراوَنڈ پر فتح کے جھنڈے گاڑنے میں بھی کامیاب ہوئی۔ دس سال بعد ایک بار پھر غیر ملکی ٹیم نے پاک سر زمین پر قدم رکھا۔ 15 سال بعد راولپنڈی اسٹیڈیم آباد ہوا، لیکن رونقیں بارش کی نظر ہوئیں۔ پھر کراچی ٹیسٹ کرکٹ کا میلہ سجا جس میں قومی ٹیم نے بالآخر ہوم گراوَنڈ پر فتح کے جھنڈے گاڑ کے قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ عابد علی، شان مسعود، بابر اعظم اور اظہر علی چاروں قومی ٹیم کے مضبوط ستون ثابت ہوئے۔ ایک ہی اننگ میں چاروں کی سنچری ہو گئی۔ عابد علی تو مین آف دی میچ کے ساتھ مین آف دی سیریز کا ٹائٹل بھی جیتے۔ بس سب کو انتظار ہے کہ ایسا کوئی کیھل دوبارہ جلد ہی جمے وہ بھی ہوم گراوَنڈ پر۔ بہرحال ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی نے دیگر ٹیموں کے لیے بھی راستہ ہموار کر دیا۔پی سی بی کے سی ای او وسیم خان نے کہا ہے کہ سال 2020 جنوری میں بنگلہ دیش کی ٹیم آئے گی اور فروری میں ایم سی سی کرکٹ ٹیم دورہ کرے گی۔ دیگر ٹیموں سے بات چیت چل رہی ہے۔ پی ایس ایل کے تمام میچز بھی ہوم گراوَنڈ پر ہونگے، جن میں سے 8 میچز راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونگے۔

آگے چلتے ہیں۔۔ کرکٹ سے آگے کھیلوں کا جہاں اور بھی ہے۔ پاکستان نے نیشنل گیمز اور ساوَتھ ایشیئن گیمز میں گولڈ میڈلز جیتے۔ پاکستان نے نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ہونے والی 13ویں ساؤتھ ایشین گیمز میں بھی کامیابیاں سمیٹیں۔ پاکستان نے 32 طلائی، 41 چاندی اور 59 کانسی کے تمغے جیتے۔ پاکستان نے یہ 32 طلائی تمغے دس مختلف کھیلوں کراٹے، ایتھلیٹکس، ویٹ لفٹنگ، ووشو، تائی کوانڈو، پہلوانی، سکواش، شوٹنگ، جوڈو اور ہینڈ بال میں میں حاصل کیے۔ ان تمام کھیلوں میں کھلاڑیوں نے خوب محنت کی لیکن وطن پہنچے تو حکومت نے پوچھا تک نہیں۔

دیگر کھیلوں کی بات ہو رہی ہے۔ ملک میں33 ویں نیشنل گیمز کا انعقاد بھی ہوا، جس میں آرمی نے قائد اعظم ٹرافی اپنے نام کی۔ چاروں صوبوں سے کھلاڑی آئے حصہ لیا۔ اسلام آباد میں، یاد آیا کہ نیشنل گیمز کے سوئنمنگ کے مقابلے ہوئے اور شہر میں میڈیا نمائندگان کے علاوہ شاید ہی کسی کو معلوم تھا کہ سوئنمنگ کے مقابلے ہیں۔ نیشنل گیمز کی پروموشن دور کی بات تھی، ماحول میں بھی وہ جوش و جذبہ نہیں تھا۔ کھلاڑیوں سے بات ہوئی تو نامناسب انتظامات پر کافی پریشان تھے۔ لیکن نوٹس کون لیتا؟کوئی ہوتا تو نوٹس لیا جاتا۔

خیر کھیلوں پر مزید نظر ڈالتے ہیں۔ چند دن قبل اسکواش کے بین القوامی مقابلوں میں بھی پاکستان نے کامیابی سمیٹی۔ طیب اسلم جیت گئے۔ ٹینس کے مقابلے بھی خوب ہوئے، بس پیچھے ہے تو ہاکی۔ کئی کھیل کچھوے کی چال چل کر بھی آگے نکل گئے بلکہ جیت گئے سوائے ہاکی کے۔ اللہ جانے ہاکی کو کسی کی بددعا ہے یا اداروں کی عدم توجہی کہ ہاکی کا کھیل اوپر اٹھ ہی نہیں پا رہا۔ دعا کے ساتھ امید ہے شاید آئندہ برس ہاکی بھی جیت جائے۔

ابھی چند دن پہلے تائیکوانڈو کے مقابلے ہوئے، دیکھ کے مزہ آیا۔ مارشل آرٹ کا یہ کھیل بھی اچھا ہے۔ کافی مار دھاڑ کا کھیل ہے۔ سیلف ڈیفنس کے لیے کم از کم اس کھیل میں سب کو حصہ لینا چاہئیے۔ اس کھیل میں ساوَتھ ایشین گیمز میں پاکستان نے دو طلائی تمغے جیتے۔ سال 2019 تو کھیلوں میں جیت گیا اللہ کرے 2020 بھی پاکستان کے لیے اچھا ثابت ہو۔ کھیل کے میدان آباد رہیں، غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آئیں اور پاکستان دنیا میں سرخرو ہوتا رہے۔ آمین!

متعلقہ خبریں

Leave a Comment