آئیکون شاعرہ پروین شاکر کو ہم سے بچھڑے 25 برس بیت گئے

اسلام آباد: انتہائی کم عمری میں شعر گوئی کا آغاز اور رومانوی خیالات کو مسحور کُن انداز میں بیان کرنے والی شاعرہ پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے۔

محبت، درد، تنہائی اور فراق و وصال سے لبریز احساسات کو شاعری کے مسحور کن مگر بے باک پیرائے میں استوار کرنے والی شاعرہ پروین شاکر 14 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ پروین شاکر نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اپنی منفرد شاعری کی کتاب ’’خوشبو‘‘ سے اندرون و بیرون ملک بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے والی پروین شاکر کو آدم جی ایوارڈ اور پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا گیا۔

پروین شاکر کی تصانیف خوشبو، صد برگ، انکار، مسکراہٹ، چڑیوں کی چہکاراور کف آئینہ، ماہ تمام، بارش کی کن من بے پناہ مقبول ہوئیں۔ الفاظ کا انتخاب، لہجے کی شگفتگی، ساحرانہ ترنم اور لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے کے ہنر نے پروین شاکر کو اردو ادب میں امر کر دیا۔ پروین شاکر کی جواں مرگ نے ان کی شہرت کو کم نہیں ہونے دیا۔ آج بھی اردو ادب میں جب ایک مکمل شاعرہ کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو پروین کے نعم البدل کے طور پر کوئی شاعرہ ادبی منظر پر نظر نہیں آتی۔

پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو ایک ٹریفک حادثے میں 42 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

Leave a Comment