ایف آئی اے کا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ پر چھاپہ


لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماوں کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے طلبی کے نوٹسز جاری کرنے کے بعد  آج  وفاقی  تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے  پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں قائم مرکزی سیکریٹریٹ میں چھاپہ مارا گیا ہے۔

اس چھاپے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ایف آئی اے کی چار رکنی ٹیم نے دفتر پر چھاپہ مارا جس میں ایک خاتون افسر بھی شامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی جانب سے یہ چھاپہ پاکستان جج ارشد ملک کے حوالے سے کی گئی پریس کانفرنس سے متعلق مواد کے لیے مارا گیا۔ عطااللہ تارڑ کے مطابق حکومت جج ارشد ملک کے معاملے میں پارٹی بن گئی ہے حالانکہ ناصر بٹ نے لندن میں ہائی کمیشن کو متعدد مرتبہ مذکورہ ویڈیو کی تصدیق کرنے کی کوشش کی لیکن اس کو نہیں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود کہا تھا کہ ارشد ملک نے عدلیہ کا سرشرم سے جھکادیا ہے۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے غیرقانونی احکامات ماننے سے انکار کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان انتقامی سیاست پر اتر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشد ملک کے تمام تر حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ جج ارشد ملک کو تو آج تک کسی نے کچھ نہیں کہا۔ عمران احمد نیازی اور اس کی حکومت کا سارا زور مسلم لیگ (ن) پر چلتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب ہم ڈٹے ہوئے ہوئے ہیں۔ آپ کی فسطائیت، آپ کی انتقامی کارروائیوں اور آپ کی فاشسٹ سوچ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ عطا اللہ تارڑ نے ناصر بٹ کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ ناصر بٹ نے یہ موقف لیا تھا کہ میں پاکستان میں آکر پیش ہونے کو تیار ہوں لیکن سیکیورٹی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں ان کووارنٹ گرفتاری دے دیں لیکن ان سے ویڈیو نہ لیجیے گا۔

یاد رہے چند روز قبل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما پرویز رشید، عظمی بخاری اور عطا اللہ تارڑ کو جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں طلبی کے نوٹسز جاری کیے تھے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.