مشرف کی لاش کو گھسیٹنے کے ریمارکس کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر


اسلام آباد: پرویز مشرف کی سزا اور لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لانے کیخلاف سپریم کورٹ میں میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ یہ درخواست ایک عام شہری کی جانب سے دائر کی۔ درخواست میں وفاق، وزارت قانون اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف کی سزائے موت کے تفصیلی فیصلے میں جسٹس سیٹھ وقار کے لکھے گئے فیصلے کے پیرا نمبر 66 کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کو قانون سے متصادم قرار دیا جائے۔ خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار کا آئین و قانون کے تحت جائزہ لیا جائے۔ موقف اپنایا گیا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے سے ملک میں انتشار اور بحران کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ خصوصی عدالت کے پاس آرٹیکل 6 کیخلاف کاروائی کا اختیار نہیں۔ انسانی لاش کو چوراہے پر گھسیٹنا توہین میت ہے۔ فیصلے سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوا۔ فیصلے سے اداروں میں ٹکراو کا تاثر پھیل رہا ہے اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں: پرویزمشرف کےخلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

یاد رہے کہ 17 دسمبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کےتحت سزائے موت سنائی تھی۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2:1 کی اکثریت سے سنایا تھا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پھانسی سے قبل پرویز مشرف مر جائیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک پر لٹکایا جائے۔ فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ پر سزائے موت دی جاتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کی پھانسی کی سزا پر ہر صورت عملدرآمد کروائیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو مفرور کرانے  میں ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔


اپنا تبصرہ بھیجیں