اے این ایف سے متعلق تضحیک آمیز رویہ اپنایا جارہا ہے: فردوس عاشق اعوان

اسکرین گریب

اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے رانا ثناء اللہ  کیس میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے بارے میں  تضحیک آمیز رویہ اپنایا جارہا ہے۔

اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این ایف کی رانا ثنااللہ سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں ہے۔ جسمانی ریمانڈ اس ملزم کا لیاجاتا ہے جس سے برآمدگی کرنی ہوتی ہے۔ ریکوری ہونے کے بعد جسمانی نہیں بلکہ جوڈیشل ریمانڈ لیاجاتا ہے۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ کیس کے فیصلے میں صرف ایک رخ دکھایا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ کیس میں اے این ایف کا ٹرائل کیا جارہا  ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ 15 گرام ہیروین عدالت میں پیش کی گئی۔ عدالت میں 15 یا 20 کلو کی منشیات نہیں بھیجی جاسکتی۔ عدالت میں منشیات نمونے کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اے این ایف ایک قومی ادارہ ہے، قوم اس کی طاقت بنے۔ اے این ایف نے ملک کو منشیات سے پاک کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے میڈیا کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہ میڈیا میں صرف ایک طرف کی رپورٹنگ سے اور طرح کا تاثر قائم ہوتا ہے۔ یہ عدالتی فیصلے میں بھی ریفلکٹ ہوتا ہے۔ اس سے اس بات کا تاثر ملتا ہے کہ میڈیا زیادہ طاقتور ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ  حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق کیس پر نظرثانی اپیل دائر کردی ہے۔ ہماری قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کےفیصلے کا تمام پہلووَں سے جائزہ لیا ہے۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی نقائص ہیں۔ نقائص دور کرنے کیلئے نظرثانی اپیل دائر کی گئی ہے۔ نظرثانی اپیل قومی مفاد کیلئے دائر کی گئی ہے۔ اس معاملے پر وزیر قانون اور اٹارنی جنرل تفصیلی بات کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment