بھٹو کی رانی

وہ خون میں لت پت پنڈی میں

بندوقیں تھیں بم گولے تھے

وہ تنہا پیاسی ہرنی تھی

اور ہر سو قاتل ڈولے تھے

وہ دریا دیس سمندر تھی

وہ تیرے میرے اندر تھی

وہ ہر لحاظ سے بے نظیر تھی۔ بہترین ماں، زیرک سیاستدان، با کردار خاتون، باوفا بیوی، بہادر بیٹی، نڈر بہن۔۔۔ اس کا ہر روپ بے نظیر تھا۔ اکیس جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہونے والی  اور پیار سے پنکی پکاری جانے والی ہر طرح سے بے نظیر نے ہارورڈ یونیورسٹی سے 1973 میں پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ تعلیم مکمل کر کے پاکستان آنے کے بعد عملی سیاست کا آغاز نظر بندی اور جیل سے ہوا۔ ملک میں ضیا کا مار شل لاء لگا اور ذوالفقار علی بھٹو گرفتار ہوئے۔ محترمہ کوخاندان سمیت گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ ایم آر ڈی تحریک کی وجہ سے 1984 میں جیل سے رہائی ملی۔

جلا وطنی کے بعد 1986 میں لاہور پہنچیں تو تاریخی استقبال ہوا۔ 1987 میں شادی ہوئی۔ 2دسمبر 1988 کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔ انیس اکتوبر 1993 میں دوبارہ وزیر اعظم بنیں۔ تاریخی میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔

اٹھارہ اکتوبر 2007 دوسری جلا وطنی کے بعد وطن واپسی ہوئی تو موت گھات لگائے ان کی راہ تک رہی تھی۔ استقبالی جلوس میں دہشت گردحملے میں 180 سے زائد جیالے شہید ہوئے مگرچند ہی ماہ بعد دوسرا حملہ ستائیس دسمبر 2007، کوراولپنڈی میں ہوا اور قوم کے دلوں پر راج کرنے والی رانی کو ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا کر دیا

شہادت کی خبر بھی کسی قیامت سے کم نہیں تھی۔ وہ اسپتال میں چیخ و پکار کے مناظر اور شہر شہر پھوٹ پھوٹ کر رونے والے جیالوں کی آواز آج بھی دماغ کو سن کر دیتی ہے۔

بھٹو کی نازوں پلی اس رانی نے سیاست میں بہت سی سختیاں دیکھیں لیکن اس کی رگوں میں دوڑتے بھٹو خاندان کے خون نے بی بی شہید کی ثابت قدمی پر آنچ نہ آنے دی۔۔

سب نے یاد رکھا ہے، ہر ضمیر زندہ ہے

دھڑکنیں یہ کہتی ہیں ، بے نظیر زندہ ہے

 

سلمی کوثر ہم نیوز سے بطور اینکر وابستہ ہیں۔ سلمی کوثر ہم نیوز سے بطور اینکر وابستہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment