ضم شدہ قبائلی علاقوں میں اساتذہ کی بھرتی۔۔ وزیر اعلی خیبرپختونخواہ نے ہدایات جاری کر دیں۔


پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں اساتذہ کی فراہمی کے منصوبے کے تحت 3500 سے زائد خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ ہدایات انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں ضم شدہ اضلاع کے شعبہ تعلیم میں ترقیاتی اقدامات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے دیں۔

تفصیلات کے مطابق ضم شدہ قبائلی اضلاع میں 600 سے زائد سکولوں میں 3500 سے زائد آسامیاں خالی ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اساتذہ کی فراہمی کے منصوبے کے تحت ان آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل اپریل 2020ءتک مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اُنہوں نے ہدایت کی ہے کہ بھرتیوں کیلئے امتحانات کا انعقاد پشاور کی بجائے متعلقہ قبائلی اضلاع میں ہی یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے بعض ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ ضم شدہ اضلاع کے شعبہ تعلیم میں تمام منصوبوں کا مکمل ایکشن پلان فراہم کیا جائے اور ٹائم لائن پر سختی سے عمل کیا جائے ۔ اس کے علاوہ کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے جعلی ڈاکومنٹس رکھنے والے اور ڈیوٹی سے مسلسل غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کو برطرف کرنے جبکہ ضم شدہ اضلاع میں ماہر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے تعلیمی اداروں میں ناپید سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی اور ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع کی تمام آسامیوں پرمقامی افراد کو ہی بھرتی کیا جائے۔

اجلاس میں شریک ضم شدہ اضلاع کے نو منتخب عوامی نمائندوں نے شعبہ تعلیم میں ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے اپنے مسائل اور تجاویز سے آگاہ کیا۔واضح رہے کہ ضم شدہ اضلاع میں ستوری دہ پختونخوا پروگرام کے تحت 15.49 ملین روپے مختص کئے گئے، جن میں 3.87 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.