نیب ترمیمی آرڈیننس یا تو این آراو ہے یا این آراو پلس: قمر زمان کائرہ


اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ خان صاحب کے ساتھ ملنے والے لوگوں کے گناہ دھل گئے ہیں۔ نیب ترمیمی آرڈیننس یا تو این آراو ہے یا این آراو پلس ہے۔ نیب آرڈیننس پر پارلیمنٹ میں جانا ہے یا نہیں، اس پر پہلے پارٹی سے مشاورت ہوگی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے نیب آرڈیننس پر سوال اٹھا دیا کہا کہ وزیراعظم کس منہ سے آرڈیننس لائے ہیں اور کس کے لیے لائے ہیں؟ قمرزمان کائرہ نے کہا کہ حکومت نے اپنے دعوں اور وعدوں پر یوٹرن لیا ہے۔ جلد ہی وزیراعظم یوٹرن بھی لیں گے اور وہ آخری یوٹرن ہوگا۔

قمر زمان کائرہ نے لیاقت باغ جلسے میں حکومتی رکاوٹوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت باغ جلسہ میں حکومتی رکاوٹیں شرمناک ہیں، البتہ ہم سیکورٹی کے حوالے سے پولیس کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خود جلسے کریں تو ٹھیک  ہے لیکن اپوزیشن کو اجازت نہیں۔ اب ہم پنجاب کے آٹھ سے دس اضلاع تک جلسے کریں گے۔ ہم نے پہلا فیز کارساز سے شروع کیا تھا، اب ہم نے دوسرا فیز لیاقت باغ سے شروع کیا ہے۔

قمرزمان کائرہ نے وزیراعظم عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ تبدیلی چاہتے ہیں، اس لیے ہمارے خلاف مزاحمت ہو رہی ہے۔ خان صاحب کو مزاحمت نہیں ملامت ہورہی ہے۔ جب آصف علی زرداری نے نیب کے حوالے سے کہا کہ بلیک میلنگ ہو رہی ہے تو حکومت نے طنز کیا۔ اب اپنے لوگوں کو بچانے آرڈیننس لایا جا رہا ہے۔ جو لوگ خان صاحب کے ساتھ مل گئے ان کے گناہ دھل گئے۔

آئی ڈی: 2019/12/30/1607

Leave A Reply

Your email address will not be published.