کشمیر پر دنیا کا رد عمل بھارت کی توقع کے خلاف ہے: شاہ محمود قریشی

Shah Mahmood Qureshi-Afghan-Taliban-US-Peace-Accord

ملتان: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آج دنیا بھر میں بھارت کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف 5 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی سامنے آگئے ہیں۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کی ہندوتوا سوچ بے نقاب ہو گئی ہے۔ بھارت نے کشمیر میں مظالم کو چھپایا لیکن کشمیر پر دنیا کا ردعمل بھارت کی توقع کے برعکس ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ پوری دنیا کے عالمی اخبارات میں بھارت کے خلاف تنقیدی مضامین لکھے جا رہے ہیں۔ بھارت کا کوئی شہر یا ریاست ایسی نہیں جہاں ریلیاں نہ نکلیں ہوں۔ کیا پورے بھارت میں کرفیو لگایا جاسکتا ہے؟ یہ ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میں اقلیتیں متحد ہو کر احتجاج کر رہی ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے۔ بھارت مکمل طور پر تقسیم ہو چکا ہے۔ وہاں جو بات چلی ہے ابھی تھمتی دکھائی نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے چندم برم کی تقریر سنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے آئین پر حملہ کیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ اس ترمیم کو رد کرے گا۔

شاہ محمود قریشی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کے فیصلے نے عوام کے جذبات کو مجروح کیا۔ بھارت میں پرتشدد مظاہروں میں 25 سے زائد اموات ہو چکی ہیں جس سے بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان نے متنازع قانون کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی نے بھی متنازع قانون اور کشمیر میں مظالم کیخلاف بھرپور آواز اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ماضی میں تعاون کرنے والے کشمیری رہنماء بھی اب کنارہ کش ہیں۔

وزیر خارجہ کے مطابق بھارت نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ان کے ساتھ کیا بات کریں؟ ہمسایہ ملک کی جانب سے ایل او سی پر 5 مقامات پر باڑ کو کاٹا گیا۔ میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ساتواں خط لکھا ہے۔ چین نے بھی اقوام متحدہ کے آبزرورز کو بریفنگ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل میں بھارت کے عزائم بے نقاب ہونگے اور سفارتی محاذ پر جو کچھ کیا جاسکتا ہے، کیا جا رہا ہے۔

نیب آرڈیننس سے متعلق بات کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ لوگ کسی چیز کا مطالعہ کیے بغیر تبصرے شروع کر دیتے ہیں۔ اپوزیشن کے دوستوں نے نیب آرڈیننس دیکھے بغیر تنقید کرنی ہے۔ حکومت مسائل کو دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھاتی ہے تو رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خوف سے نکالنے کیلئے حکومت نے ایک پروپوزل دیا ہے۔ اب حکومت نے نظر ثانی کی ہے تو اسے ایک نیا رنگ دیا جا رہا ہے۔ کرپشن پر پردہ ڈالنا اور این آر او دینا مقصد نہیں ہے۔ کرپشن کیلئے زیروٹالرنس کی پالیسی واضح ہے۔

کوالالمپور سمٹ کے حوالے سے شکوک پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیراعظم کی نیت پر شک کرتے تھے، نہ کرتے ہیں، نہ ہی کریں گے۔ ملائیشین وزیراعظم کی کاوش کو سراہتے ہیں۔ غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ایک موقع ملے گا، اوراس کے لیے کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ترکی اور ملائیشیا نے ہمارے موقف کو سنا اور سمجھا۔ ترکی کے صدر پاکستان آرہے ہیں، اور مستقبل قریب میں وزیراعظم عمران خان بھی ملائیشیا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

 

آئی ڈی: 2019/12/29/1609 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment