نیب کو انتقامی کارروائی کے لئے استعمال کرنے کا تاثر درست نہیں: شاہ محمود قریشی

Shah Mahmood Qureshi-Afghan-Taliban-US-Peace-Accord

اسلام آباد: نیب ترمیمی آرڈینس کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیب قوانین میں اصلاحات لانے کا مطالبہ بہت پرانا ہے۔ مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں، جب ہم اپوزیشن کا حصہ تھے، انہی قوانین کی اصلاح کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں بھی شامل تھیں۔ اس کمیٹی نے نیب اصلاحات کے حوالے سے بہت سا کام کیا لیکن بدقسمتی سے مکمل نہ ہو سکا۔ لیکن ایک عمومی تاثر یہ تھا کہ نیب قوانین میں اصلاح کی ضرورت ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت نے اب ایک آرڈیننس کے ذریعے ایک پرپوزل سامنے رکھا ہے۔ یقیناً اس مسودے کو قانونی سازی کے لئے پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے گا۔ یہ دونوں ایوانوں میں جائے گا اور اگر معزز ممبران اس میں بہتری کیلئے کوئی تجویز دینا چاہیں تو ضرور دیں۔ بہت سے مقدمات میں نیب کی طرف سے جمع کی گئیں شہادتیں نامکمل نظر آئیں۔ بعض مقدمات میں استغاثہ کے دلائل کمزور دکھائی دئیے اور بہت سے لوگ، جنہوں نے قومی خزانے کو لوٹا، ان نقائص کی وجہ سے انہیں فائدہ پہنچا۔ لیکن اس ادارے میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور ان نقائص کو دور کیا جا سکتا ہے۔ نیب اپنی کاروائی اور تفتیش میں مکمل آزاد ہے اور یہ تاثر کہ نیب کو کسی انتقامی کارروائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، درست نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کی ایک معینہ مدت ہوتی ہے جس کے بعد اسے قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کے پاس جانا ہوتا ہے، جس میں حکومتی اراکین کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا موقف بھی سامنے آئے گا۔ احتساب کے عمل کو آگے بڑھانے میں اور ادارے کو مستحکم بنانے کے لئے اگر اپوزیشن کے پاس، قابل عمل، مثبت تجاویز ہونگی تو ہم کھلے دل سے ان پر غور بھی کریں گے اور انہیں قبول بھی کریں گے۔

 

آئی ڈی: 2019/12/31/1807 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment