افغان طالبان نے افغانستان میں جنگ بندی کی تردید کر دی

کابل :افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان خبروں کی نفی کر دی ہے کہ طالبان نے افغانستان میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان کے درمیان میں بعض معاملات پر اختلافات کی خبروں کو محض پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ طالبان کے ترجمان نے ٹوئیٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کا جنگ بندی کا اعلان کرنے کا کوئی ارداہ نہیں ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ امریکہ نے طالبان سے کارروائیوں میں کمی کرنے کا کہا تھا اور اس معاملے پر طالبان کی قیادت غور کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان قیادت نے اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی اس معاملے پر طالبان کی قیادت میں کوئی اختلاف ہے۔ جنگ بندی کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایسی کوئی پیش رفت ہوئی تو اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل صوبہ تخار میں طالبان نے افغان فوج کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں 17 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ ہلاکت خیز کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب امریکہ کی سربراہی میں غیر ملکی فوج کے ساتھ طالبان قیادت مبینہ طور پر ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر بات چیت کر رہی ہے۔ قبل ازیں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ فریقین میں آئندہ ماہ یعنی جنوری 2020 کے اوائل میں کچھ وقت کے لیے جنگ بندی ہو سکتی ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس عارضی جنگ بندی سے طالبان اور امریکہ کے درمیان فوجی انخلا سے متعلق معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ ایسے معاہدے کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بھی دو دہائیوں سے جاری محاذ آرائی کے مستقل خاتمے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

دو ہفتے قبل امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ افغان امن عمل اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ افغانستان کے دورے کے حوالے سے خلیل زاد نے کہا تھا کہ کابل میں ہونے والی ملاقاتوں میں افغانستان میں جاری تشدد میں کمی لانے کی کوششوں اور بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے پر تبادلۂ خیال ہوا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی فوج نے ایک بیان جاری کیا تھا کہ افغانستان میں ایک کارروائی کے دوران اس کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔ طالبان نے میڈیا کو بھیجے گئے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اہلکار کو شمالی صوبے قندوز میں ہلاک کیا گیا۔

رواں سال ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان سے جاری مذاکرات کو ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر معطل کر دیا تھا۔ یہ مذکرات اس وقت ختم کیے گئے جب دونوں جانب سے معاہدے کے بالکل قریب پہنچ جانے کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ نومبر میں افغانستان کے دورے کے دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ جب طالبان نے کابل کے بگرام فضائی اڈے پر خود کش حملہ کیا تو یہ بات چیت ایک بار پھر معطل کر دی گئی۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے چند روز قبل ہی افغانستان میں قیام امن اور طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی جنگ میں گزشتہ 10 برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔

اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے اور امن بحال کرنے کے لیے کوششوں کو تیز کردیا ہے۔ اس سال اپریل میںموسم بہار میں مسلح جارحیت کا اعلان کرنے کے بعد سے طالبان اور سکیورٹی فورسز کے مابین لڑائی تیز ہوگئی تھی۔

افغانستان کے شمال میں بدخشان ، بغلان اور فاریاب اور مغرب میں فرح صوبوں میں زبردست لڑائی کے ساتھ حالیہ ہفتوں کے دوران افغانستان میں طالبان کے مسلح حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ حملوں کی طاقت رکھتے ہیں اور دوسری طرف امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں ۔ طالبان افغانستان کےصدر غنی کی حکومت سے براہ راست بات کرنے سے انکار کرتے ہیں اور اسے مغرب کی "کٹھ پتلی” کہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment