سال 2020 اور ہم

آج سال کی آخری شب ہے۔ تمام لوگوں کو نئے سال کی مبارک ہو، اللہ کرے کہ آنیوالا سال ہم سب کے لئے ، ہمارے وطن کے لئے خوش آئند ہو، کامیابیاں اور خوشیاں لے کر آئے۔ رواں سال کئی مشکلات،پریشانیاں اور چیلنجز لے کر آیا۔ ترقی اور خوشحالی کا دور دیکھنے کی آس میں لوگوں نے گزارا۔ملکی سلامتی اور امن امان کے حوالے سے  مثبت اور منفی دونوں طرح کے واقعات شامل تھے، سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ اس سال نے دنیا بھر میں نوجوانوں‌کی قوت کو اس انداز سے مترشح کر دیا کہ اگلے سال کے لئے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں‌ میں لوگوں کی نظریں اس نئی ابھرتی ہوئی یوتھ فورس پر لگی ہیں۔وزیرِ اعظم کی اقوام متحدہ کے اجلاس میں جاندار  تقریر کے بعد پوری دنیا بالعموم اور اسلامی دنیا بالخصوص کا پاکستان کے بارے میں زاویہ نگاہ تبدیل ہو گیا ہے۔اللہ کرے اگلے سال پاکستان ایک نیا اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہو سکے۔

نئے سال کو منانے کا ہر ایک کا اپنا انداز ہے۔ میرے خیال میں تو ہمیں بجائے ہلا گلا اور سڑکوں پر احمقانہ حرکتیں کرنے کے بجائے اس رات کو اپنے گزرے سال کے محاسبے کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سال میں ہم نے کیا حاصل کیا، کیا کھویا، ہمارے اندر کیا مثبت تبدیلیاں‌آئیں، کون کون سی خامیاں‌ہیں جنہیں اس سال بھی ہم دور نہ کر سکے۔ اسی طرح یہ رات اللہ سے عبادت کرنے، استغفار کرنے اور نئے سال کے لئے دل خوش کن تبدیلیوں کی دعا کرنے کی ہے۔ صلوۃ حاجت ضرور پڑھنی چاہیے۔ نئے سال کی پلاننگ کے لئے بھی آج کی شام اور رات کو استعمال کرنا چاہیے۔ ہمیں اس رات اپنے آپ سے کوئی اہم عہد ضرور کرنا چاہیے۔ اپنی عادات ،معمولات میں مثبت تبدیلی لانے کا عہد، کمزوریوں، کوتاہیوں اور تساہل پر قابو پانے کا عہد، سب سے بڑھ کر اللہ کے ساتھ اپنے رشتے کی تجدید کرنے کا عہد، رب تعالٰی کو اپنی واحد یا کم از کم پہلی ترجیح بنانے کا عہد، نماز میں باقاعدگی لانے، ذکر کی جانب راغب ہونے، مطالعہ کو بہتر کرنے کا عزم اور عہد،سیرت رسولﷺ کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا عہد اور اپنی فکری وذہنی،جسمانی وروحانی صلاحیتوں میں بہتری کا عزم تحریری صورت میں لانا چاہیے۔ ایک دانا شخص نے  نصیحت کی تھی کہ نئے سال کی ڈائری شاعری، اقوال زریں یا دیگر باتیں تحریر کرنے کے لئے نہیں ہوتی ،بلکہ اکتیس دسمبر کی شام کو اگلے پورے سال کی منصوبہ بندی مکمل کر کے اپنی ڈائری میں درج کر لینا چاہیے۔ یعنی یہ تک معلوم ہو کہ پہلی سہ ماہی میں کیا کرنا ہے، دوسری میں کیا ہے، تیسری اور چوتھی میں ‌کیا، کیا نئی چیزیں سیکھنی ہیں، کون کون سی کتابیں پڑھنی ہیں، اپنے فیملی ،دوستوں اور دوسروں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کیا کچھ کرنا ہے وغیرہ۔ پلانر بنانے کے بعد سب سے ضروری کام اس کا اپنے سامنے کسی دیوار پر،ٹیبل پر یا کسی بھی نمایاں جگہ پر آویزاں  کرنا ہے۔جہاں ہر وقت آپ کی نظر اُس پر پڑتی رہے اور آپ کا فوکس وہی رہےآپ اس کوپسِ پشت نہ ڈال دیں۔

اگرآپ  یہ ہمت کرنے  میں کامیاب ہو جاتے ہیں تویقین جانئے  آپ کا شمار دنیا کے 95 فیصد سست لوگوں سے تبدیل ہوکر 5 فیصد چست اور کامیاب لوگوں میں ہوجائے گا۔اور یہی رویہ آپ کی ترقی کا ضامن بنے گا۔

خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اُترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشئہ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ  کھلا رہے برسوں

یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

 

آئی ڈی: 2019/12/31/1903

Leave a Comment