26 نومبر 2019، ایک تاریخ ساز دن

26 نومبر 2019 سپریم کورٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مقدمے نے پاکستان کی عدالتی تاریخ کو بدل کے رکھ دیا۔ 25 نومبر کی شام آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیخلاف درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر ہونے کی خبر آئی۔ یہ خبر اتنی حساس تھی کہ ہر میڈیا چینل اسے چلانے سے گریز کر رہا تھا۔ 26 نومبر کی صبح جب سپریم کورٹ کی کاز لسٹ میں کیس مقرر ہوا تو تمام میڈیا پر خبر چلنا شروع ہوگئی۔ 26 نومبر کی صبح جب عدالت عظمی پہنچا تو کچھ دیر بعد اطلاع ملی کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مقدمے میں درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے درخواست واپس لینے کی درخواست دائر کی ہے۔ یہ خبر ملتے ہی تجسس کا مینار زمین بوس ہوگیا، وجہ یہ تھی کہ اس نوعیت کے مقدمات پورے کیریئر میں شاز و نادر ہی نصیب ہوتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت شروع کی تو یہ بھی پتا چلا کہ التواء کی درخواست غیر معمولی طور پر دائر کی گئی ہے۔ یہ التواء کی درخواست ہاتھ سے لکھی ہوئی تھی اور اس درخواست کے ساتھ کوئی بیان حلفی تھا نہ ہی درخواست گزار کے دستخط۔ جب یہ درخواست بینچ کے سامنے پہنچی تو چیف جسٹس نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے اور ہم اس معاملے کی سماعت کریں گے۔ اٹارنی جنرل بغیر نوٹس عدالت میں پہنچے اور غیر تسلی بخش جوابات دیکر کیس کو پیچیدہ بنا دیا۔ عدالت نے پہلی سماعت کے اپنے فیصلے میں درج ذیل باتیں کہیں:

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو باضابطہ فریق بنایا جاتا ہے اور نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا جاتا ہے,

وزارت دفاع اور اور وفاقی حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا جستا ہے،

عدالت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا حکومتی نوٹیفیکیشن معطل کر دیا۔

نوٹیفکیشن معطلی کی خبر نے عوام سمیت حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ علاقائی امن و استحکام کی صورتحال کے پیش نظر آرمی چیف کو توسیع دی جا رہی ہے۔ علاقائی سکیورٹی سے نمٹنا فوج کا بطور ادارہ کام ہے اور کسی ایک افسر کا کردار اس میں بہت ہی کم ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ علاقائی امن و استحکام کی وجہ مان لیں تو فوج کا ہر افسر دوبارہ تعیناتی چاہے گا۔

اٹارنی جنرل مدت ملازمت میں توسیع یا نئی تعیناتی کا قانونی جواز فراہم نہ کر سکے۔ آرمی رولز کے تحت صرف ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے، ریٹائرمنٹ سے پہلے ریٹائرمنٹ معطل کرنا چھکڑا گھوڑے کے آگے باندھنے والی بات ہے۔ کیس میں اٹھنے والی تمام نکات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اس فیصلے میں ایک اور بات نہایت اہمیت کی حامل ہے، جیسا کہ ذکر ہوا کہ درخواست گزار نے کیس کی پیروی کرنے سے انکار کیا۔ اس پر چیف جسٹس نے معاملہ آرٹیکل 184/3 کے تحت سننے کا فیصلہ دیا جو کہ عدالت عظمیٰ کے ازخود نوٹس کا اختیار ہے۔ دوسری جانب عدالت سے باہر بھی اس حوالے سے گہما گہمی عروج پر تھی۔ کابینہ اجلاس میں کابینہ کی جانب سے کہا گیا کہ توسیع کا فیصلہ متفقہ تھا جبکہ عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق 25 میں سے صرف 11 اراکین نے سمری پر ہاں میں جواب دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جمہوریت میں فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں اور 25 میں 11 افراد کو اکثریت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کابینہ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنا استعفی دے کر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کیطرف سے اپنا وکالت نامہ جمع کرا دیا۔

آرمی چیف کی توسیع کا نوٹی فیکیشن معطل ہونے پر کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں آرمی چیف نے خود بھی شرکت کی۔ غلطیاں دور کر کے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تاہم اگلے دن وہ بھی عدالت نے مسترد کر دیا۔ تین دن تک اہم مقدمے کی سماعت ہوتی رہی لیکن قانون میں آرمی چیف کی توسیع کا ذکر نہ ہونے پر عدالت کو مطمئن نہ کیا جاسکا۔ 28 نومبر کو سپریم کورٹ نے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع دیتے ہوئے حکومت کو چھ ماہ میں قانون سازی کا حکم سنایا۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے تاہم پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آرمی چیف کی تقرری اور توسیع کا معاملہ عدالت میں پہنچا۔ اس معاملے کا حتمی فیصلہ جو بھی ہو مگر اس کیس نے ہماری عدالتی نظام میں نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment