الیکشن کمیشن اراکین کی تعیناتی کے لیے حکومت کو 15 دن کی مہلت

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے دو نئے اراکین کی تعیناتی کے لیے حکومت کو مزید 15 دن کی مہلت دے دی ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید مہلت کی استدعا منظور کر لی۔ لیگل ایڈوائزر قومی اسمبلی عبداللطیف یوسفزئی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کا آخری اجلاس کل ہوا تھا مگر دھند کی وجہ سے کچھ ممبرز نہیں آ سکے۔ گذشتہ کمیٹی نے جو رولز بنائے تھے وہ موجودہ حالات میں قابل عمل نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پارلیمانی کمیٹی اپنے رولز خود بنا سکتی ہے۔   وہ پہلے سے بنائے گئے رولز کے تحت کام نہیں کر رہی۔  جو بھی کمیٹی بنے گی اس کے رولز بھی مستقل نہیں ہوں گے۔  ابھی جو کمیٹی کام کر رہی ہے وہ اپنے رولز خود بنا سکتی ہے

  عبداللطیف یوسفزئی نے کہاکہ پارلیمنٹ غلطی کرے تو اس کو سدھار بھی لیتی ہے۔ چیف جسٹس نے جواب میں کہا کہ پارلیمنٹ کبھی غلطی نہیں کر سکتی۔  وہ 22 کروڑ عوام کی نمائندہ ہے۔  چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کسی ایک شخص پر اتفاق نہیں کر سکتے تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ عدالت تو ہی توقع کر سکتی ہے کہ کسی ایک نام پر اتفاق ہو جائے گا۔  پارلیمانی کمیٹی کے رولز میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں تو وہ کمیٹی کا اختیار ہے۔  عبداللطیف یوسفزئی  نے استدعا کی کہ دس دن کا وقت دے دیں ، انشاء اللہ آئندہ سماعت پر آپ کو اچھی خبر  دیں گے۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی ۔

آئی ڈی: 2019/12/31/1784