گیس بحران؛ خطرے کی گھنٹی بج گئی

Gas-Load-Shedding

اسلام آباد: گیس کے بحران کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ 2023 میں بڑھ کر 4 ارب 65 کروڑ کیوبک فٹ ہوجائے گا۔ جبکہ 2028 میں یہ شارٹ فال بڑھ کر 6 ارب 72 کروڑ کیوبک فٹ ہوجائے گا۔ آئندہ سال گیس کا شارٹ فال 4 ارب کیوبک فٹ یومیہ ہوجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق مقامی گیس کی فراہمی 2023 تک 751 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہوجائے گی ۔ مقامی گیس کی فراہمی 2028 تک ایک ارب 66 کروڑ کیوبک فٹ کم ہوجائے گی۔ اس شارٹ فال کو کم کرنے کے لیے درآمدی گیس اور مقامی گیس کی پیداوار بڑھا کر طلب و رسد میں فرق کم کیا جاسکتا ہے ۔ 2023 میں ملک میں گیس کی طلب 7 ارب 24 کروڑ کیوبک فٹ یومیہ ہوجائے گی ۔

دستاویزات کے مطابق مقامی گیس کی فراہمی 2023 میں 2 ارب 59 کروڑ کیوبک فٹ یومیہ ہوگی۔ ایل این جی کی درآمد 2023 تک 1800 ایم ایم سی ایف ڈی تک ہوجائے گی ۔ ایران سے2023 تک 750 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درآمد کرنے کا تخمینہ جبکہ ٹاپی سے 2023 تک 1325 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درآمد کرنے کا تخمینہ ہے۔ ایل این جی، آئی پی، تاپی سے گیس کی درآمد سے طلب و رسد میں فرق کم ہوجائے گا۔

واضح رہے ملک بھر میں بجلی اور گیس کا بدترین بحران چل رہا ہے۔ جبکہ ملک بھر میں عوام الناس اپنے روز مرہ کے کام کاج کرنے سے قاصر ہیں۔

 

آئی ڈی: 2019/12/31/1809 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment