سال نو میں وفاقی کابینہ میں پھر رد و بدل کا امکان

اسلام آباد: سال 2019 میں وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کا سلسلہ جاری رہا لیکن یہ تبدیلیوں کا سلسلہ 2020 میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

نومبر 2019 میں پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا، پنجاب اور وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ اس سے قبل 18 اپریل اور 18 نومبر کو دو دفعہ کابینہ میں تبدیلی کی جا چکی ہے جس میں کچھ وزراء کے قلمدان تبدیل کیے گئے۔

ذرائع کے کابینہ میں 2 بار تبدیلی کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے جس کی وجہ سے آنے والے سال کے آغاز میں ایک بار پھر کابینہ میں تبدیلی کیے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو دوبارہ وفاقی کابینہ میں شامل کیا جا چکا ہے۔ وفاقی کابینہ میں اس وقت 24 وزراء مختلف قلمدان رکھتے ہیں۔ عمر ایوب خان کے پاس پاور ڈویژن کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم ڈویژن کا اضافی قلمدان ہے جو خسرو بختیار کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ خسرو بختیار کے پاس پلاننگ، ڈویلمپنٹ اور ریفارم کی وزارت تھی تاہم یہ وزارت اسد عمر کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

رواں برس وزیراعظم عمران خان نے فواد چوہدری سے وزارت اطلاعات واپس لے کر انہیں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدان دیا تھا اور اعجاز شاہ کو وزیر برائے وفاقی پارلیمانی امور سے وفاقی وزیر داخلہ بنایا۔ اسی طرح انہوں نے غلام سرور خان سے وزارت پیٹرولیم کا قلم دان واپس لے کر وزارت ایوی ایشن انہیں سونپی جب کہ سینئر رہنما اعظم سواتی کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور بنایا گیا۔ شہریار آفریدی سے وزیر مملکت برائے داخلہ کا قلم واپس لے کر انہیں وزیر مملکت برائے ریاستی و سرحدی امور (سیفران) مقرر کیا گیا۔

دو وزارتوں کے قلم دان کے حامل محمد میاں سومرو سے ایوی ایشن کی وزارت واپس لی گئی جب کہ وزارت نجکاری کا قلمدان ان کے پاس ہی رہا۔

2019 میں علی امین گنڈا پور سے کشمیر امور، عامر محمود کیانی سے قومی صحت اور طارق بشیر چیمہ سے ہاؤسنگ کی وزارت بھی واپس لی گئی۔ دوسری جانب ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا کو وزیراعظم کا مشیر برائے نیشنل ہیلتھ بنایا گیا جبکہ فردوس عاشق اعوان کو معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم نے عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ جب کہ ندیم بابر کو معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ڈویژن مقرر کیا۔

آئی ڈی: 201/12/31/1864 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment