سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟

احمد عدیل سرفراز


گلی ڈنڈا اٹھا کر گرمیوں کی تپتی دوپہر میں گھر سے نکلنا اور کمال یہ کہ والدین کو کانوں کان خبر نہ ہو،گڈیاں لوٹنا، لٹو گھمانا وقت گزارنے کا بہترین ذریعہ ہوتے تھے۔ وقت کچھ اس تیزی سے تبدیل ہوا ہے کہ 80 کی دھائی میں پیدا ہونے والے تو تقریبا "پرانے زمانے” والے ہوچکے ہیں۔

الفاظ اور فقروں کی تکرار سے مقصد تحریر فوت نہ ہو سو مدعے کی بات یہ ہے کہ اب ہر نوجوان کے ہاتھ میں کم از کم ایک اور کچھ کے ہاتھوں میں دو، دو دمکتی اسکرینیں ہیں۔ یہ موبائل فون ہے! تاروں کے گچھے کے جنجھٹ کے بغیر کسی بھی جگہ ایک دوسرے سے رابطے کیلئے موثر سمجھے جانے والے اس "گیڈجیٹ” نے ہماری دنیا ہی تبدیل کردی ہے۔ یہی آج کے نوجوان کی کتاب ہے اور یہی لائبریری، یہی محلے کے دوسری جانب بہتی نہر بھی ہے اور آج کے کرکٹ گراونڈ بھی۔ اور نوجوان دنیا و مافیھا سے بے خبر اسی میں گم ہیں۔

آج کا نوجوان ہمارے دور کے نوجوان کی طرح سڑک کنارے محبوبہ کی ایک جھلک کیلئے گھنٹوں خوار نہیں ہوتا۔ محبوب کی جھلک، اداوں سمیت ایک ویڈیو کال کی دوری پر ہے۔

بات تفریح تک محدود رہتی تو ٹھیک تھا مگر سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور اپلیکیشنز نے نوجوانوں کے شتر بے مہار بننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، اسکا استعمال ہے۔ پاکستان کے حوالے سے بات کریں تو ہم ویسے بھی ٹیکنالوجی کے عجیب و غریب استعمال میں مشہور ہیں۔

سوشل میڈیا کے عام ہو جانے سے ہر شخص بے باک اور موثر انداز میں اپنی رائے کا اظہار بلا روک ٹوک کر سکتا ہے ۔ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس تک آسان رسائی سے اسکا منفی استعمال بھی جنم لے رہا ہے۔ خصوصا یہ کہ سوشل میڈیا پر اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر بھی "اظہار رائے” ہوسکتا ہے۔ اور اگر کسی بھی شخص کو اپنی بات کہتے کیلئے جھوٹی شناخت کا سہارا لینا پڑے تو نہ صرف منافرت اور شر پھیلائے جانے کی آزادی موجود ہے بلکہ اس پر آپ کی پکڑ بھی نہیں ہوگی۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق آج پاکستان کے لگ بھگ ہر گھر میں انٹریٹ کی سہولت دستیاب ہے اور ہر شخص کے ہاتھ میں سمارٹ فون۔

اٹھارہ سے پچیس سال کے نوجوان لڑکے لڑکیاں عموما کالج، یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان مستقبل کو سامنے رکھ کر ذہن میں اپنے لئے اہداف مقرر کرتا ہے۔ آج کے نوجوان اور ان اہداف کے درمیان سوشل میڈیا کا دلدل موجود ہے۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران طلباء کی ایک بڑی تعداد کو انتہاء پسندی اور بنیاد پرستی کی طرف مائل ہوتا دیکھا گیا ہے۔ اور تشویش کی بات یہ کہ یہ بچے ملک کی اعلیٰ ترین جامعات میں زیرتعلیم ہیں۔ دو سال قبل عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے ایک طالبعلم کو سوشل میڈیا پر توہین رسالت کا مرتکب قرار دیا گیا۔ جس کے بعد ایک مشتعل ہجوم نے اس نوجوان مشعال خان کو تشدد کا نشانہ بنا کر مار ڈالا۔ پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مقتول کیجانب سے کی گئی سوشل میڈیا پر لگائی گئی "پوسٹس” توہین رسالت کے زمرے میں نہیں آتی تھیں۔ ارد گرد نظریں دوڑائی جائے تو با اسانی دیکھا جا سکتا ہے ہمارا معاشرہ اس طرح کے واقعات سے اٹا پڑا ہے۔

سینئر صحافی اور سوشل میڈیا بلاگر سبوخ سید کیمطابق "بیس سے پچیس سال کے بچوں میں سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ایک خطرناک حقیقت ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر شائع ہونے والی زیادہ تر خبروں یا تجزیوں کو بنا تصدیق سچ مان لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں میں دلیل سے بات کرنے یا سوال کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی کے طلباء کو مذہبی انتہاء پسندی کیجانب راغب کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جا رہا ہے”۔ سبوخ سید کے مطابق سوشل میڈیا کے استعمال کی باضابطہ تربیت کا فقدان اس صورتحال کی بنیادی وجہ ہے۔ طلباء بناء تحقیق اورسوچے سمجھے بغیر رائے قائم کر رہے ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز میں ریسرچ کے شعبے سے منسلک اسماعیل خان کہتے ہیں "طلباء میں بڑھتی شدت پسندی کی ایک بنیادی وجہ جعلی پوسٹیں ہیں” ان کے مطابق "سوشل میڈیا پر خبر بنا کر پیش کی جانے والی اکثر "پوسٹس” جھوٹ کا پلندہ ہوتی ہیں۔ روایتی میڈیا کی طرح ان خبروں کو فلٹر نہیں کیا جاتا۔ ریاست صرف صحافتی اداروں کو مذہبی انتہا پسندی کے فروغ سے باز رہنے کی تلقین کرتی دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایسی کوئی پابندی نہ ہونے کے باعث ہر عمر کے لوگوں کو مصدقہ اور غیر مصدقہ معلومات تک یکساں رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے کہ اپنے بچوں کو کس حد تک سوشل میڈیا تک رسائی دی جائے، اگر اس فیصلے میں مذید تاخیر کی گئی تو مشعال قتل کیس جیسے مزید واقعات کا خدشہ بہرحال موجود ہے”۔

بین الاقوامی اداروں کی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے کہ غیر ضروری اور زیادہ استعمال سے طلباء کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ بچوں میں نہ صرف پڑھنے کا شوق دم توڑ رہا ہے بلکہ زہنی دباو کا شکار بھی ہو رہے ہی۔ سستی شہرت اور خود کو ثابت کرنے کی دوڑ میں بچے، بچیاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا غیر ضروری استعمال کر رہے ہیں ۔ اس کی ایک مثال 22 سالہ بلاگر بلال خان بھی ہے۔ جس کو جون میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔ بلال خان کی موت پر مختلف لوگوں نے اپنی آراء دیں۔ زیادہ تر کا ماننا ہے نوجوان بلاگر کی موت سوشل میڈیا کے باعث ہوئی۔ سوشل میڈیا کا المیہ یہ ہے کہ جلد اور زیادہ فالورز کیلئے آپ کو کسی ایک مائنڈ سیٹ کی طرفداری کرنا ہوتی ہے۔ جب آپ کسی ادارے، سیاسی یا مذہبی جماعت کو نشانہ بنائیں گے تو ان کے مخالف آپ کی پوسٹ شئیر اور ری ٹویٹ کریں گے جس سے آپ کا پیچ یا چینل کم وقت میں مقبول ہو جائیگا۔

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہارون بلوچ کی رائے میں” والدین کو بچوں پر نظر رکھنے اور سوشل میڈیا سے باز رہنے کی تلقین کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ سوشل میڈیا ٹریننگ کو پرائمری اور سیکنڈری نصاب کا حصہ بنائے تا کہ طلباء کو سوشل میڈیا کے موثر استعمال کا طریقہ معلوم ہو سکے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/01/1984 

Leave A Reply

Your email address will not be published.