نیب ترمیمی آرڈیننس پر مطمئن کرے: اسلام آباد ہائی کورٹ

Islamabad High Court

اسلام آباد: اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے نیب کو نئے ترمیمی آرڈیننس پر مطمئن کرنے کا حکم دیتے ہوئے اکرم درانی کی عبوری ضمانت میں 15 جنوری تک توسیع کر دی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ نیب گرفتاری پر پریس ریلیز ایسے جاری کرتا ہے کہ اگلا شخص ملزم نہیں مجرم ہو، یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔ نئے نیب آرڈیننس پر آئندہ سماعت پر نیب عدالت کو مطمئن کرے کہ اصل بااختیار بیوروکریٹس کو تحفظ دے کر عوامی نمائندوں کو کیسے گرفتار کیا جا سکتا ہے جن کے پاس اختیار ہی نہیں ہوتا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم درانی کی ضمانت کے کیس کی سماعت کی۔ اکرم درانی کے وکیل نے درخواست کی کہ اکرم درانی کی ضمانت میں توسیع کی جائے۔ نئے نیب آرڈیننس کے تحت وہ اس کیس سے نکل جائیں گے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب پراسکیوٹر سے کہا کہ نئے آرڈیننس میں بیوروکریٹس کو تحفظ دے دیا گیا ہے۔ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر تو بیوروکریٹ ہوتے ہیں ان کو تو آپ گرفتار نہیں کرسکتے۔ اکرم درانی پبلک آفس ہولڈر تھے۔ تمام اختیار تو سیکرٹری کے پاس ہوتا ہے۔ کیا آپ نے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کو کیس میں گرفتار کیا؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دیے کہ چیئرمین نیب کا وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار لامحدود نہیں۔ نیب غلط کرتا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری پر پریس ریلیز ایسے جاری کرتا ہے جیسے وہ شخص ملزم نہیں مجرم ہو۔

عدالت نے نیب پراسکیوٹر کو حکم دیا کہ ہمیں آئندہ سماعت پر مطمئن کریں سارے بیوروکریٹس کو تحفظ دے دینے کے بعد پبلک آفس ہولڈر کو کیسے گرفتار کریں گے؟ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ جن کے پاس اختیار ہے، وہ بھی ملزم ہے۔ عدالت نے نئے آرڈیننس پر بننے والی صورتحال پر جواب کے لیے نیب کو آئندہ سماعت تک مہلت دیدی۔

ساتھ ہی ساتھ عدالت نے رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم درانی کی چار نیب انکوائریز میں عبوری ضمانت میں 15 جنوری تک توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

آئی ڈی: 2020/01/01/2003 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment