چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے رولز میں تبدیلی سپریم کورٹ میں چیلنج


کراچی: چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کی تقرری کے رولز میں تبدیلی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی گئی۔ رولز میں تبدیلی کو چیلنج کرتے ہوئے اس ضمن میں سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کی تقرری پارلیمنٹ کے دو تہائی اکثریتی طریقہ سے کی جائے۔ حکومتی آرڈیننس کے ذریعے پارلیمانی کمیٹی رولز میں تبدیلی پر پابندی لگائی جائے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ  حکومت اپنی مرضی کا چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن ممبران لگانا چاہتی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی رولز میں سادہ اکثریت کا لفظ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پارلیمنٹ کے دو تہائی اکثریت کے طریقے میں تبدیلی آرٹیکل 213 اور 218 کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست محمود اختر نقوی نے کراچی رجسٹری میں دائر کی۔ درخواست میں وفاق, سیکرٹری الیکشن کمیشن اور وزارت قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں قومی اسمبلی کے لیگل ایڈوائزر نے الیکشن کمیشن کے اراکین کی تعیناتی کے کیس میں عدالت کو بتایا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کے رولز قابل عمل نہیں ہیں جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی اپنے رولز خود بنا سکتی ہے۔

مزید برآں حال ہی میں حکومت نے پارلیمانی کمیٹی میں تعیناتی رولز تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق چیف یا ممبران کی تعیناتی کیلئے رولز میں دوتہائی کی جگہ سادہ اکثریت کا لفظ شامل کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کا موقف ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے موجودہ رولز غیر آئینی ہیں۔ ججز تعیناتی اوردیگر کمیٹیوں میں دوتہائی کی شرط نہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کے رولز موجودہ تنازعہ کو حل کرنے کے بعد تبدیل کئے جائیں گے۔ موجودہ رولز میں دوتہائی کی شرط کی وجہ سے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی نہیں ہوسکی۔

آئی ڈی: 2020/01/01/1935 

Leave A Reply

Your email address will not be published.