ایف اے ٹی ایف سفارشات پر عملدرآمد؛ ٹیکس ترمیمی آرڈیننس جاری

اسلام آباد: حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس 2019 جاری کر دیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت 10 ہزار ڈالرز سے زائد رقم بیرون ملک لے جانے پر جرمانہ اور سات سال تک کی قید کی سزا سنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ 15 تولہ سے زائد سونا بیرون ملک لے جانے پر بھی پابندی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر حکومت نے ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا گیا جس کے تحت دس ہزار ڈالرز تک کیش بیرون ملک لے جانے کی اجازت ہوگی، تاہم 10 ہزارسے 20 ہزار ڈالرز بیرون ملک لے جانے پر کرنسی ضبط کر لی جائے گی اورجرمانہ بھی ہو گا۔ اس کے علاوہ 20 ہزار سے50 ہزار ڈالرز بیرون ملک لے جانے پر 2 سال تک قید کی سزا اور تین گنا جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔ مزید بر آں 50 ہزار سے 1 لاکھ ڈالرز بیرون ملک لے جانے پر سات سال تک قید کی سزا ہوگی۔ ایک لاکھ ڈالرز کیش لے جانے پر چار گنا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ آرڈیننس کے تحت 15 تولہ سے زائد سونا باہر لے جانے پر پابندی ہوگی۔ اس صورت میں سونا بھی ضبط کرلیا جائے گا۔

صدر مملکت نے ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے بعد آرڈیننس ملک بھر میں نافذ کردیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے تحت سیلز ٹیکس قانون میں بھی ترامیم کی گئی ہیں۔ ٹی آر ون تاجروں کیلئے بجلی بل کی حد بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ اس کے تحت تاجروں کو دس کروڑ روپے تک پر ودہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنایا جائے گا۔ تاجروں کیلئے ٹرن اوور پر ٹیکس ڈیڑھ فیصد سے کم کرکے اعشاریہ پانچ فیصد کردی گئی ہے۔ تاہم تاجروں اب غیر رجسٹرڈ لوگوں کو سیل نہیں کر سکیں گے۔ پلانٹ اور مشینری پر بھی سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت پرچون کی قیمت فروخت نہ لکھنے والی اشیاء کو ضبط کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ سیکارا اکاؤنٹس پر دس فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو یکم جنوری کو اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی۔ ایف اے ٹی ایف نے سزائیں سخت کرنے کی تجویز دی ہے، لہذا آرڈیننس جاری کیا گیا ہے، جس کی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے گی۔

آئی ڈی: 2019/01/01/2025

متعلقہ خبریں

Leave a Comment