توہین عدالت کیس میں ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری


اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ویڈیو کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سربراہ واجد ضیاء کو توہین عدالت درخواست میں نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل جہانگیر خان جدون کی توہین درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کی۔ مسلم لیگ ن نے شیخ اعجاز احمد کے خلاف 2016 میں درج ہونے والی ایف آئی آر اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کر دی۔ اس ایف آئی آر کے مطابق شیخ اعجاز احمد نے لاہورہائیکورٹ میں ملزم کے حق میں جھوٹا بیان دیا۔

 سماعت کے دوران ایف آئی کے ڈی جی واجد ضیاء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا گیا۔ کیس میں تفتیشی اسٹنٹ ڈائریکٹر اعجاز شیخ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے آئندہ سماعت سے قبل تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ایف آئی اے کا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ پر چھاپہ

درخواست گزار کے عدالت کو بتایا کہ نومبر میں عدالت نے ایف آئی اے کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روکا تھا لیکن اس کے باوجود ایف آئی اے نے ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اعجاز شیخ خود ایف آئی اے میں ملزم ہیں اور انہی نے بطور تفتیشی لاہور میں مسلم لیگ ن کے دفتر پرچھاپہ مارا اور ریکارڈ قبضے میں لیا۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے کہا تھا کہ کارروائی کرنے کے لیے سیاسی دباو ڈالا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی اس معاملے کو چھوڑ دیں، جواب آجائے تو دیکھتے ہیں۔

عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

 

آئی ڈی: 2020/01/02/2059 

Leave A Reply

Your email address will not be published.