بھارت کے نئے آرمی چیف کی آتے ہی ہرزہ سرائی۔۔ پاک فوج نے بیان مسترد کر دیا

اسلام آباد: حال ہی میں تعینات ہونے والے نئے بھارتی آرمی چیف نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر دی ہے۔ دفتر خارجہ نے لیفٹیننٹ جنرل منوج موکند ناراونے کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دوسری طرف ‘پیشگی حملوں’ کے ‘غیر ذمہ دارانہ بیان’ کو مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عزم اور تیاری کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی جارحانہ اقدام پر سخت جواب دیا جائے گا۔ کسی کو بھی بالاکوٹ میں بھارتی مس ایڈونچر کے نتیجے میں پاکستان کے موثر ردعمل کو یاد رکھنا چاہیے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

واضح رہے کہ 2 دن قبل بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل منوج موکند ناراوانے نے کہا تھا کہ بھارت لائن آف کنٹرول کے پار حملوں کا اختیار رکھتا ہے۔ بھارتی آرمی چیف نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد ہی کہا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردی کی معاونت کو ختم نہیں کرتا تو دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر بھارت کو پاکستان پر حملے کا اختیار حاصل ہے اور ہماری اس نیت کا مظاہرہ بالاکوٹ آپریشن اور سرجیکل اسٹرائکس کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ نئے آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل بپن راوت نے نئی دہلی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال کبھی بھی کشیدہ ہوسکتی ہے۔ اس بیان کے ردِ عمل میں  پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ بھارت دنیا کی توجہ ملک میں متنازع شہریت ترمیمی قانون پر بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

آئی ڈی: 2020/01/02/2090

اپنا تبصرہ بھیجیں